بھارت میں دہلی گینگ ریپ کی فلم کیسے دیکھی جا رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ فلم ریلیز کرنے ملک بھر میں ایک بار مظاہرے شروع ہو سکتے ہیں

بھارت کی حکومت نے سنہ 2012 میں دارالحکومت دہلی میں ہونے والے ریپ پر بنائی گئی دستاویزی فلم پر پابندی عائد کر دی ہے۔

یہ دستاویزی فلم بی بی سی نے بنائی ہے جسے برطانیہ میں نشر کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ’انڈیاز ڈاٹر یا بھارت کی بیٹی‘ نامی اس فلم میں ریپ کرنے والے مجرم کے خواتین کے بارے میں نازیبا الزامات سے ملک بھر میں ایک بار پھر احتجاج شروع ہوسکتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے دستاویزی فلم پر پابندی عائد کرنے کے اقدام پر ملک کی پارلیمان سمیت دیگر حلقوں میں حکومت پر کڑی تنقید کی گئی۔ سوشل میڈیا میں اس پابندی کو ’حقیقت سے منہ پھیرنے‘ کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

حکومت کے خیال میں دستاویزی فلم کی ریلیز پر پابندی لوگ اسے دیکھ نہیں پائیں گے لیکن اس کے برعکس ہندوستانیوں نے انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور متعدد طریقوں سے یہ فلم دیکھی اور سوشل میڈیا پر فلم کے بارے میں اپنی پختہ رائے سوشل میڈیا کے ذریعے پیش کی۔

اس واقعہ سے ایک بار یہ بحث شروع ہوئی ہے کہ انٹرنیٹ کے دور پر کسی بھی فلم یا کتاب یا فن پارہ پر پابندی عائد کرنا کتنا مشکل ہو گیا ہے۔

دارالحکومت دہلی کی ایک عدالت نے یہ حکم جاری کیا کہ کسی بھی ٹی وی چینل یا انٹرنیٹ کے ذریعے اس فلم کو بھارت میں نشر نہ کیا جائے۔

بیشتر بھارتی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے عدالتی احکامات کی پاسداری کی اور یہاں تک کہ خواتین کے بارے میں ریپ کرنے والے مجرم کا بیان بھی نشر نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ٹی وی چینلز اور اخبارات نے خواتین کے بارے میں ریپ کرنے والے مجرم کا بیان بھی نشر نہیں کیا۔

بھارت میں تو دستاویزی فلم نشر نہ ہو سکی لیکن بی بی سی نے یہ دستاویزی فلم برطانیہ میں نشر کی اور اُس وقت سے اب تک دنیا بھر میں ایسے شیئر کیا جا رہا ہے۔ یوٹیوب نے جمعرات کو جاری کیے گئے بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فلم کے لنک کو ہٹا دیا گیا۔

اور اب جو کوئی یوٹیوب پر فلم دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے اُسے یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ’عدالت کے حکم کی وجہ سے اس ملک کے ڈومین پر یہ فلم مہیا نہیں ہے‘۔

لیکن اس کے باوجود بھارتی عوام یوٹیوب پر یہ فلم دیکھ سکتے کیونکہ جیسے ہی یوٹیوب ایک لنک ہٹاتا کوئی اور کسی اور اکاؤنٹ سے دوسرا لنک اپ لوڈ کر دیتا ہے۔

عدالت کے حکم کے علاوہ فلم کو پروڈیوس کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے وہ فلم سے متعلق غیر قانونی مواد کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

یوٹیوب پر ایک پیغام میں کہا گیا ’یہ ویڈیو بی بی سی کی ہے اور اس نے کاپی رائٹ کے حقوق کے تحت یہ ویڈیو بلاک کردی ہے۔‘

فلم یوٹیوب کے علاوہ متعدد دیگر ویب سائٹس پر اپ لوڈ کی گئی اور یہی وجہ ہے کہ حکام کے لیے پابندی برقرار رکھنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔

ایک ویب سائٹ پر یہ ویڈیو اس پیغام کے ساتھ نشر کی گئی ہے ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ آپ یہ فلم دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ آپ اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ حکومت آپ کی جانب سے فیصلہ نہیں کر سکتی ہے۔‘

اس ویب سائٹ پر یوٹیوب کا لنک تھا اور اس ویڈیو کوٹوئٹر اور فیس بک پر 40 ہزار بار شیئر کیا گیا تھا۔

یوٹیوب کی جانب سے کئی اکاؤنٹس سے اپ لوڈ کیے گئے لنکس ہٹانے کے باوجود ہزاروں بھارتیوں نے یہ فلم دیکھ لی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگوں نے فلم کی سی ڈی بناکر یا یو ایس بی میں محفوظ کر کے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا ہے۔

آج کے دور میں اس طرح کی پابندی عائد کرنا کتنا مشکل ہے اس کے بارے میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک وارڈ کا کہنا ہے اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آن لائن موجود مواد کو کاپی کرنا اور شیئر کرنے سے روکنا کتنا مشکل ہے تو آپ میوزک اور فلم انڈسٹری سے پوچھیں۔

انھوں نے بتایا کہ تقریباً 10 برسوں سے اس انڈسٹری سے منسلک لوگ میوزک کی غیر قانونی نقل کرنے اور اسے چوری ہونے سے روکنے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ ک رچکے ہیں، کئی قوانین بنائے گئے ہیں اور کاپی کرنے سے روکنے والے سافٹ وئیر تشکیل دیے گئے ہیں۔

’مثال کے طور پر گزشتہ برس کے آخر میں گوگل کو ہر ہفتے 90 لاکھ ایسی درخواستیں موصول ہوتی تھیں جس میں آن لائن مواد غیر قانونی تشہیر کے لنکس ہٹانے کے لیے کہا گیا تھا۔ اس کے باوجود انٹرنیٹ پر پائریٹڈ یا نقل کیا گیا مواد بہت آسانی سے مل جاتا ہے۔‘

آج کے دور میں سمارٹ فون، سوشل میڈیا اور ایس ایم ایس نے مواد کو شیئر کرنا، اس کو نقل کرنا مزید آسان بنادیا ہے۔

اسی بارے میں