’تھوڑی سی جو پی لی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’لینسیٹ‘ کی ایک رپورٹ کےمطابق پوری دنیا میں جتنی شراب بنتی ہے اس کی بیس فی صد شراب بھارت میں پی جاتی ہے

بھارت کے آئین سازوں نے جب ملک کا آئین مرتب کیا تو اس میں انہوں نے شہریوں کےحقوق اور ریاست کی ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ ایک اور پہلو جوڑ دیا ملک کی، اخلاقی اور مذہبی روایات کی بنیاد پر ایک ہدایتی رہنما اصول مرتب کیا گیا اور اسے ملک کےدستور میں شامل کر لیا گیا۔

جمہوری اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے ان رہنما اصولوں کو لازمی نہیں بلکہ اختیاری رکھا گیا۔ ان اصولوں میں دو نکات بڑے اہم ہیں۔ پہلےاصول میں حکومتوں سے یہ توقع کی گئی ہے کہ وہ پورے ملک میں ہندوؤں کےمذہبی تصورات کے احترام کے تحت گائے کے ذبح کرنے پر پابندی عائد کریں گی۔ اور دوسرا اصول یہ طے کیا گیا کہ ملک کی ہر ریاست میں شراب پر پابندی عائد کی جائے گی۔

گائے کے ذبیحے پر تو چار پانچ ریاستوں کو چھوڑ کر پورے ملک میں پابندی عائد کی جا چکی ہے اور گائے کا گوشت کھانے پر کئی برس تک کی سزائے قید ہو سکتی ہے ۔

لیکن شراب پر حکومت کا زور نہ چل سکا۔ پابندی تو ایک طرف یہ ملک کی ریاستوں کی آمدنی کا کا واحد سب سے بڑا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ بھارت کے کروڑوں مے خوار آج ملک کی فلاحی اسکیموں اور ترقیاتی پروگراموں میں زبردست کردار ادا کر رہے ہیں۔ بیشتر ریاستوں کی تقریبً بیس فیصد آمدنی شراب کی فروخت سے آتی ہے۔

ہولی، دیوالی اور نیا سال ایسے مواقع ہیں جب بھارتی مے خواروں کی سخاوت یا یوں کہیے کہ نشہ اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ دلی شہر میں ہولی سے پہلے یکم مارچ سے چار مارچ تک صرف چار دنوں کے اندر ساٹھ کروڑ روپے کی شراب فرو خت ہوئی۔ اور اگر دارالحکومت کے لوگ اسی مقدار میں پیتے رہے تو اس برس دلی شہر کی انتظامیہ کو شراب کی فوخت سے 3550 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی ہوگی۔

بھارت میں گجرات، ناگا لینڈ، میزورم اور منی پور، چار ایسی ریاستیں ہیں جہاں سرکاری طورپر شراب پر پابندی عائد ہے۔ ملک کی باقی ریاستوں میں شراب سرکاری آمدنی کا سب سے ٹھوس اور یقینی ذریعہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Niraj Sinha
Image caption بھارت میں شراب کے خلاف کام کرنے والی ایک تحریک میں شامل لوگ ایک جلوس میں شریک ہیں

گزشتہ برس تمل ناڈو کو تقریبً 22 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ کیرالہ جیسی چھوٹی ریاست کی بائیس فیصد آمدنی شراب سے آتی ہے۔ شراب سے کرناٹک کی سالانہ آمدنی ڈھائی ارب ڈالر ہے۔

ہریانہ اور پنجاب کی بھی خاصی آمدنی شراب سے ہوتی ہے۔

یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ حکومت اخبارات ٹیلیویژن، فلموں اور بڑے بڑے بینررں کے ذریعے شراب کے خلاف مہم پر ہر برس کروڑوں روپے صرف کرتی ہے اور ساتھ ہی بہت سی ریاستوں میں خود ہی شراب کا کاروبار بھی کرتی ہے۔

بھارت میں اقتصادی اصلاحات، نوجوانوں کی بڑی تعداد اور اور بدلتی ہوئی اخلا‍قی اور سماجی قدروں سے شراب کو تیزی سے قبولیت ملی ہے۔

’لینسیٹ‘ کی ایک رپورٹ کےمطابق پوری دنیا میں جتنی شراب بنتی ہے اس کی بیس فی صد شراب بھارت میں پی جاتی ہے۔ ایسوسی ایٹیڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایک رپورٹ کے مطابق شراب کی صنعت بھارت میں تیس فی صد کی شرح سے ترقی کر رہی ہے۔ بھارت آج وہسکی کا سب بڑا بازار ہے۔

2015 میں بھارت میں شراب کی کھپت 20 ارب لیٹر تک پہنچ جائے گی۔ اس برس وہسکی، وائن اور بیئر کی فروخت ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے یعنی 25 ارب ڈالر سے تجاوز کر جانے کا تخمینہ ہے۔ شراب کو کچھ لوگ بھلے ہی برا سمجھتے ہوں لیکن یہ بھارت کی میعشت کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں