بورس نیمتسوو کے قتل کے الزام میں ’دو افراد گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

روسی سکیورٹی سروس ایف ایس بی نے اپوزیشن رہنما بورس نیمتسوو کے قتل کے مقدمے میں افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایف ایس بی کے ڈائریکٹر نے سرکاری ٹی وی پر بتایا کہ دو افراد کو سنیچر کو حراست میں لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر ولادیمیر پوتن کو اس پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ ایک نامعلوم حملہ آور نے گذشتہ جمعے کو اپوزیشن رہنما بورس نیمتسوو کو ماسکو میں چار گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ان کی آخری رسومات منگل کو ادا کی گئیں تھیں۔

بورس نیمتسوو روسی صدر کے بڑے ناقدین میں سے تھے اور حال ہی میں ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں خدشہ ہے کہ یوکرین میں جنگ کی مخالفت کی وجہ سے ولادیمیر پوتن انھیں مروا سکتے ہیں۔

نیمتسوو کی عمر 55 سال تھی اور سابق صدر بورس یلسن کے تحت نائب وزیراعظم رہ چکے تھے۔ معاشی اصلاحات کے ماہر کے طور پر انھوں نے روس کے سب سے بڑے شہر نزنی نووگروڈ کے گورنر کے طور پر کام بھی کیا۔

ان کے موجودہ صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ واضح اختلافات سامنے آئے اور وہ ان کے ایک بے باک مخالف کے طور پر ابھرے۔

عالمی برادی اور حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ان کی ہلاکت کی فوری، غیر جانبدار اور موثر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اسی بارے میں