ناگالینڈ میں ریپ ملزم کو ہلاک کرنے پر 42 افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس نے بتایا ہے کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان پر قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور فساد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں

بھارت کی شمال مشرقی ریاست ناگالینڈ میں پولیس نے مبینہ طور پر ریپ کرنے والے ایک شخص کو جیل سے نکال کر پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے کے الزام میں 42 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

سید شریف نامی شخص کو ہزاروں لوگوں پر مشتمل ہجوم نے دیماپور علاقے کی سینٹرل جیل سے گھسیٹے ہوئے باہر نکالا، ان کے کپڑے پھاڑ دیے اور پھر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

علاقے میں شدید کشیدگي کے پیش نظر دیماپور کی گلیوں میں پولیس کا پہرہ ہے۔ اتوار کو وہاں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔

ہلاک ہونے والے شخص کا پہلے نام فرید خان بتایا گیا تھا لیکن ان کے بھائی نے پولیس کو بتایا ہے کہ ان کا اصل نام سید شریف خان ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شریف خان کا تعلق پڑوسی ریاست آسام سے تھا، وہ بنگالی زبان بولنے والے مسلمان تھے اور پیشے کے لحاظ سے معمولی تاجر تھے۔

پولیس نے انھیں گذشتہ مہینے ایک 19 سالہ قبائلی خاتون طالبہ کا تین بار ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

شریف خان کے بھائی کا کہنا ہے کہ انھیں نسلی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق متاثرہ خاتون کا سید شریف خان سے ازدواجی تعلق تھا۔

جمعرات کو جب شریف خان کو لوگوں نے جیل سے نکالا اور کئی کلومیٹر تک سڑکوں پر گھسیٹا اور پٹائی کی تو اس وقت پولیس نے بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے گولی چلائی تھی جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

پیر کو پولیس نے بتایا ہے کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان پر قانون اپنے ہاتھ میں لینے اور فساد پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے انسپکٹر جنرل آف پولیس وبانگ جمیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’جن 42 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سے بعض پتھراؤ کرنے میں براہ راست شامل تھے اور ان پر اضافی الزامات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والے سید شریف خان کا تعلق بنگلہ دیش سے نہیں بلکہ بھارتی ریاست آسام سے تھا

بعض اطلاعات کے مطابق شروع میں چند لوگوں کا ایک گروپ جیل گیا اور شریف خان کو باہر نکالنے کا مطالبہ کیا، وہاں موجود جیل اہلکاروں نے ان کی بات مانتے ہوئے انھیں شریف خان کو باہر لے جانے دیا۔ اور اس کے تھوڑی دیر بعد ہزاروں لوگ جیل کے باہر جمع ہوگئے اور یہ مطالبہ کرنے لگے کہ شریف خان کو ان کے حوالے کیا جائے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب حال ہی میں حکومت نے دسمبر 2012 کے دلی ریپ واقعے سے متعلق بی بی سی کی دستاویزی فلم ’انڈیاز ڈاٹر‘ پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق اس ہلاکت کا تعلق ناگالینڈ میں تیزي سے بڑھتی نسلی کشیدگی سے بھی ہے۔ ناگالینڈ کے قبائلیوں کا الزام ہے کہ آسام اور بنگلہ دیش سے نقل مکانی کرنے والے لوگ ان کی سرزمین پر قدم جما رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار سوتک بسواس کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ مقامی لوگوں کے لیے کسی بھی مسلمان کو بنگلہ دیشی تارکِ وطن قرار دینا کتنا آسان ہوتا ہے۔

ہلاک ہونے والے سید شریف خان کا تعلق بنگلہ دیش سے نہیں بلکہ ان کا تعلق آسام سے تھا اور ان کی مادری زبان بنگلہ تھی۔

ان کے والد بھارتی فضایہ میں کام کر چکے ہیں اور ان کے دو بھائی فوج میں ہیں۔

اسی بارے میں