کشمیری رہنما کی رہائی، بھارتی پارلیمنٹ میں ہنگامہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیراعظم نریندر مودی نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت قومی سلامتی کے معاملات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سخت گیر علیحدگی پسند رہنما مسرت عالم بٹ کو جیل سے رہا کرنے کے فیصلے پر بھارت کی پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے مسرت عالم کی رہائی کے بارے میں اُن کی حکومت سے کوئی صلاح و مشورہ نہیں کیا تھا جبکہ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے انھیں رہا کیا۔

اس ہنگامہ آرائی کے درمیان پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی سے ملاقات کی ہے۔ گذشتہ بار جب انھوں نے کمشیری علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات کی تھی تو بھارت نے پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔

پارلیمنٹ کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا، حزب اختلاف کے ارکان نے مسرت عالم کی رہائی پر حکومت سے بیان دینے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے سینئیر رہنما ملیکا ارجن نے لوک سبھا میں یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’ایک ایسا شخص جو 120 نوجوانوں کے قتل کا سبب بنا ہو اور جس کے خلاف جرائم کے سنگین الزامات ہوں اسے کس طرح رہا کیا جا سکتا ہے؟‘

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت مسرت عالم کی رہائی کے بارے میں حزب اختلاف کے جزبات سے متفق ہے ۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ’کشمیر کی حکومت نے اس سلسلے میں ان کی حکومت سے کوئی صلاح و مشورہ نہیں کیا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی اطلاع دی۔‘

مودی نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت قومی سلامتی کے معاملات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

مسرت عالم بٹ کو گذشتہ ہفتے جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سنہ 2010 میں سنگباری کی تحریک کے پیچھے انھی کا ہاتھ تھا۔ اس تحریک کے دوران پولیس کی فائرنگ میں سو سے زیادہ نو عمر بچے اور نوجوان ہلاک ہوئے تھے۔ مسرت بٹ کو سخت گیر رہنما سید علی شاہ گیلانی سے قریب اور ان کا سیاسی جانشیں سمجھا جاتا ہے۔

اس دوران پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کشمیری علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی سے ملاقات کی ہے۔ سید علی گیلانی ان دنوں دلی میں ہیں۔

اس سے قبل پاکستانی ہائی کمشنر باسط نے گذشتہ سال اگست میں جب علیحدگی پسندوں سے بات چیت شروع کی تھی تو بھارت کی نئی حکومت نے خارجہ سیکریٹری کی سطح کے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی منقطع کر دیے تھے۔ پانچ مہینے کے وقفے کے بعد بات چیت حال ہی میں دوبارہ شروع ہوئی ہے۔

کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت قائم ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا ہے۔ مسرت عالم بٹ کی رہائی مودی حکومت کے لیے سبکی کا سبب ہی نہیں بنی ہے اس سے دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات بھی کافی کشیدہ ہو گئے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ وزیر اعلی مفتی محمد سعید جیل میں قید بعض دیگر علیحدگی پسند رہنماؤں کی رہائی پر غور رہے ہیں جنہیں وہ سیاسی قیدی تصور کرتے ہیں اور جن کی رہائی کا انھوں نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا۔

اسی بارے میں