’کھلے میں رفع حاجت کی تو تصویر دیوار پر‘

Image caption سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق بھارت کی تقریباً نصف آبادی کھلے میں رفع حاجت کرتی ہے

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کے ایک ضلع کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں کو شرمسار کرے گی تا کہ وہ بیت الخلاء کا استمعال کرنے پر مجبور ہوجائیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال کے نادیہ ضلع میں دیواروں پر ان لوگوں نام اور فوٹو لگائے جائیں کہ جو سرعام رفع حاجت کرتے ہیں۔

مقامی انتظامیہ چاہتی ہے کہ گا‎ؤں والے مل کر نگراں کمیٹیاں تشکیل دیں جو کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں پر نظر رکھیں۔

ریپ کی سب سے بڑی وجہ کھلے میں رفع حاجت؟

پی ٹی آئی کو مقامی اہلکار پی بی سلیم نے بتایا کہ اس مہم کا مقصد کھلے عام رفع حاجت کو’سماجی برائی‘ کا درجہ دینا ہے تاکہ یہ لوگ شرمسار ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بیت الخلا بنائے گئے ہیں لیکن لوگوں میں ان کے استعمال کی عادت پیدا کرنا ایک علیحدہ بات ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دیہی علاقوں میں 65 فیصد لوگ کھلے میں رفع حاجت کرتے ہیں

انہوں نے بتایا ’جو لوگ نسل در نسل کھلے میں رفع حاجت کرتے آ رہے ہیں ان سے اچانک یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ بیت الخلا استمعال کرنا شروع کر دیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ جس شخص کی بھی تصویر دیوار پر لگائی گئی اس کو حکومت کی جانب سے ملنے والی مراعات ملتوی کر دی جائیں گی، تاہم اگر وہ شخص بیت الخلا کا استمعال کرنا شروع کر دیتا ہے تو یہ مراعات واپس دے دی جائیں گی۔

سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق بھارت کی تقریباً نصف آبادی کھلے میں رفع حاجت کرتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 50 کروڑ افراد بیت الخلا کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہیں ایک توغربت، دوسرا دوردراز کے دیہاتوں میں بیت الخلا بنائے ہی نہیں گئے اور اس کے علاوہ بعض افراد روایتی طور پر کھلے آسمان کے تلے رفع حاجت کرتے آئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کی تقریباً 30 کروڑ خواتین اور لڑکیاں کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں کھلے میں رفع حاجت کرنے سے بہت سی خواتین جنسی استحصال کا شکار بنتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق دیہاتوں میں صورت حال اور بھی خراب ہے۔ دیہی علاقوں میں 65 فیصد لوگ کھلے میں رفع حاجت کرتے ہیں۔ ان میں شامل خواتین کو تشدد اور جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہ رفع حاجت کے لیے منہ اندھیرے یا پھر دن ڈھلنے کے بعد باہر نکلتی ہیں جب سناٹا ہوتا ہے۔

اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بیت الخلا کی غیر موجودگی میں کھلے میں رفع حاجت کے لیے نکلنے والی خواتین جنسی تشدد کا زیادہ شکار بنتی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق، بھارت کی تقریباً 30 کروڑ خواتین اور لڑکیاں کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں اور ان میں سے زیادہ تر غریب خاندانوں کی خواتین ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں