’پاکستان یقینی بنائے کہ لکھوی جیل سے باہر نہ آ سکیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہوتا‘

بھارت نے ممبئی حملوں کی سازش کے مقدمے کے ملزم ذكی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی کے خاتمے پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ نومبر سنہ 2008 کے ممبئی حملوں میں لکھوی کے مبینہ کردار کے ٹھوس شواہد ہونے کے باعث یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انھیں جیل میں رکھے۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظر بندی کالعدم: اسلام آباد ہائی کورٹ

بھارتی حکام نے پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے اپنے موقف سے آگاہ کیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعے کو ذکی لکھوی کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دے کر ان کی رہائی کے احکامات جاری کیے تھے۔

نئی دہلی میں وزیر مملکت برائے داخلہ امور کرن رجیجو نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’ممبئی حملوں میں لکھوی کے ملوث ہونے سے متعلق تمام دستاویزات پاکستانی کورٹ میں پیش نہیں کی گئیں۔ اسی لیے عدالت نے رہائی کا حکم دیا ہے۔‘

رجیجو نے کہا: ’ہم چاہتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ لکھوی جیل سے باہر نہ آئیں۔‘

بھارتی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ پاکستانی ایجنسیاں عدالت میں ’ممبئی حملے میں مجرمانہ سازش کے مجرم لکھوی کے کردار‘ کے بارے میں موجود پختہ ثبوت ’ٹھیک سے‘ پیش کریں۔

وزارت داخلہ کے ترجمان نے نئی دہلی میں کہا: ’یہ حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تمام ضروری قانونی اقدامات کرے تاکہ لکھوی جیل سے باہر نہ آ سکیں۔ پاکستان کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کوئی اچھا یا برا دہشت گرد نہیں ہوتا۔‘

یہ دوسرا موقع ہے جب پاکستانی عدالت نے ذکی الرحمٰن لکھوی کی رہائی کے احکامات دیے ہیں۔

اس سے پہلے ہائی کورٹ کے ایک حکم کو سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر بدل دیا تھا کہ فیصلہ جلد بازی میں لیا گیا ہے۔

ذکی الرحمٰن لکھوی اور چھ دوسرے افراد پر ممبئی پر حملوں کی منصوبہ بندی، عمل اور مالی مدد کا الزام ہے۔ 26 نومبر 2008 کو ہونے والے ان حملوں میں 166 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 26 نومبر 2008 کو ہونے والے ممبئی حملوں میں 166 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان کا ردعمل

ادھر پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس معاملے میں بھارتی تحفظات مسترد کر دیے ہیں اور کہا ہے کہ اس مقدمے میں بھارت کی جانب سے فراہم کیے گئے سب شواہد عدالت میں پیش کیے جا چکے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ بھارت نے کبھی بھی حملے کے مرکزی ملزم اجمل قصاب تک پاکستانی وکلائے استغاثہ کو رسائی نہیں دی اور اب ان کی پھانسی کے بعد پاکستان میں جاری مقدمہ پیچیدہ بن چکا ہے۔

ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستان مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہے لیکن بھارت خود ہی انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعے کو پاکستان نے اس سلسلے میں بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو بھی طلب کیا تھا۔

اسی بارے میں