امتحانات میں ڈنکے کی چوٹ پر نقل

بھارت کی ریاست بہار میں امتحانات کے دوران نقل کرنا عام ہے لیکن نئی حاصل ہونے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس بڑے پیمانے پر نقل بڑی بے باکی سے ہوتی ہے۔

ڈنکے کی چوٹ پر نقل

تصویر کے کاپی رائٹ DIPANKAR

سکیورٹی کے سخت انتطامات کے باوجود کئی طالب علم درسی کتابیں اور نوٹس کمرہ امتحان میں لے جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

’نقل کرنا ہمارا پیدائشی حق ہے‘

سکینڈری سکول کے امتحان کے دوران طالب علموں کے دوست اور یہاں تک کہ ان کے والدین دیواریں پھلانگ کر انھیں سوالات کے جوابات اور نقل میں مدد دینے والا دیگر مواد پہنچاتے نظر آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ DIPANKAR

بہار کے امتحانی بورڈ ’بی ایس ای بی‘ کے تحت امتحانات جمعرات کو شروع ہوئے ہیں اور یہ 24 مارچ تک جاری رہیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان امتحانات میں 14 لاکھ طالب علم حصہ لیں گے۔

بی بی سی ہندی کے منیشن سندیلا کے مطابق مقامی اخبارات ایسی تصاویر سے بھرے پڑے ہیں جس میں والدین اپنے بچوں کو نقل کرنے میں مدد دے رہے ہیں اور اس کوشش میں بعض تو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DIPANKAR

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض اطلاعات میں امتحانی مراکز کے باہر تعینات پولیس اہلکار رشوت لے کر نقل میں مدد دیتے ہیں۔

فوٹو جرنسلٹ دیپانکر نے ریاست کے شہر سحارسا میں یہ تصاویر کھینچی ہیں۔ دیپانکر کے مطابق جب وہ امتحانی مرکز میں گئے اور کی تصاویر لینی شروع کیں تو طالب علموں نے اس کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا اور بظاہر نہ ہی انھیں کوئی پریشانی ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ مقامی اخبارات میں نقل کے بارے میں متعدد خبروں کے باوجود مقامی انتظامیہ طالب علموں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے میں سنجیدہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ THAKUR SANGRAM SINGH

چھاپرا ضلع کے علاقے سارن میں اسی سکول کی طرح کئی سکولوں میں والدین کی پولیس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی۔

امتحانات میں اگر کوئی نقل کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا جائے تو اسے تین سال کے لیے امتحان دینے کی پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے جرمانے اور جیل کی سزا بھی مل سکتی ہے تاہم بہار میں اس طرح کی سزائیں نہ ہونے کے برابر ہی دی جاتی ہیں۔

محکمۂ تعلیم کے حکام کے مطابق وہ پرامن اور شفاف امتحانات کے انعقاد کرانے پر پرعزم ہیں اور امتحانات کے دوران امتحانی مراکز کی ویڈیو بنائی جا رہی ہیں اور خصوصی ٹیمیں ان مراکز کا اچانک دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اب تک چار سو طالب علموں کو نقل کرنے پر امتحانات سے نکال دیا گیا ہے تاہم حکومت اکیلے اس مسئلے پر قابو نہیں پا سکتی اور اس میں میں والدین اور طالب علموں کو بھی ساتھ دینا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DIPANKAR

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بہار کے وزیر تعلیم پی کے شاہی نے کہا ہے کہ حکومت نقل روکنے میں کیا کر سکتی ہے اگر والدین اور رشتہ دار تعاون کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ کیا حکومت ان کو گولی مارنے کے احکامات جاری کرے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں بھی امتحانات میں نقل کا مسئلہ موجود ہے۔ حال ہی میں بلوچستان حکومت نے صوبے میں نقل کے رجحان کو ختم کرنے کے حوالے سے خصوصی مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے بڑے شہروں میں نقل کی روک تھام کے لیے خاصی سختی کی جاتی ہے تاہم چھوٹے شہروں میں امتحانات کے دوران نقل کرنے کے واقعات اب بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں