جب ڈاکٹروں کو ہی’علاج‘ کی ضرورت ہو

تصویر کے کاپی رائٹ Million Deaths Study
Image caption بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو یا تو کمیشن کی بنیاد پر تنخواہ دی جاتی ہے یا پھر ان کے لیے ’ کاروبار کے سخت اہداف قائم کیے جاتے ہیں۔‘

کلونت سنگھ سندھو کینیڈا میں رہتے ہیں۔ چند روز قبل وطن لوٹے، بس میں سفر کیا، ایک گلاس پانی پیا اور پیٹ خراب ہوگیا۔ دہلی کے ایک بڑے ہسپتال پہنچے جہاں علاج شروع ہونے سے پہلے ہی ہزاروں کا بل ان کے ہاتھ میں تھما دیا گیا۔

انڈیا کے بڑے کارپوریٹ ہسپتالوں میں یہ شکایت عام ہے۔ نجی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر ہوں یا بڑے ہسپتال، عام شکایت یہ ہے کہ ان کی نظر مریض کی صحت سے زیادہ اس کی جیب پر رہتی ہے۔

لیکن اب خود صحت کے شعبے سے وابستہ کچھ لوگ اور کچھ اصول پسند ڈاکٹر اس صورت حال کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

ڈاکٹر ابھے شکلا ان میں سے ایک ہیں۔ انھوں نے اپنے ساتھی ڈاکٹر ارون گادرے کے ساتھ ایک کتاب لکھی ہے جو اصول پسند اور ایماندار ڈاکٹروں کے تجربات پر مبنی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے یہ کتاب لکھنے کی ضرورت اس لیے محسوس کی کہ نجی ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، اس بارے میں کسی نے معلومات یکجا نہیں کیں اور ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ اس بارے میں خود ڈاکٹروں کے کیا تجربات ہیں اور جو تصویر ابھر کر آتی ہے وہ بہت بھیانک ہے۔‘

پرائیویٹ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے غیر پیشہ ورانہ رویہ پر ایک حالیہ سیمینار میں حصہ لینے والے ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ بہت سے ڈاکٹر اب تاجر بن گئے ہیں اور جب تک وہ اپنی پریکٹس کاروبار کے طور پر چلائیں گے، صورت حال میں بہتری نہیں آ سکتی۔

عام تاثر یہ ہے کہ زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں میں بھیڑ اور گندگی کا یہ عالم ہے کہ آپ وہاں جا نہیں سکتے، اور نجی ہسپتال میں پہنچ جائیں تو بس یہ سمجھ نہیں آتا کہ وہاں سے بھاگیں کیسے۔

سیمینار کا مقصد شعبہ طب میں بےضابطگیوں پر توجہ مرکوز کرنا تھا اور ڈاکٹروں کی عام رائے تھی کہ بڑے ہسپتال اور نجی پریکٹس کرنے والے بہت سے ڈاکٹر مریض کو دیکھتے ہی معائنوں کی ایک لمبی چوڑی فہرست بنا ڈالتے ہیں، کبھی جہاں آپریشن کی ضرورت نہ ہو وہاں آپریشن کر دیا جاتا ہے اور جہاں علاج ہی کی ضرورت نہ ہو وہاں علاج، صرف پیسے بنانے کے لیے۔

اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو یا تو کمیشن کی بنیاد پر تنخواہ دی جاتی ہے یا پھر ان کے لیے ’کاروبار کے سخت اہداف قائم کیے جاتے ہیں۔‘

ڈاکٹر شکلا کی طرح صحت کے شعبے سے ہی وابستہ سنیل نندراج اور عالم سنگھ نے بھی حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

انھوں نے میڈی لیکس کے نام سے ایک ویب سائٹ شروع کی ہے جہاں ڈاکٹر، مریض یا شعبہ طب سے وابستہ دوسرے لوگ بے ضابطگیوں اور ڈاکٹروں کے غلط طور طریقوں کے بارے میں اپنے تجربات بیان کر سکتے ہیں۔

میڈی لیکس پر ایک ڈاکٹر نے لکھا ہے کہ ’میں مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے ہسپتال میں کام کرتا ہوں، وہاں ایک نئے فزیو تھیراپی کلینک نے مجھے ایک خط لکھ کر کہا کہ آپ جتنے بھی مریض ہمارے پاس بھیجیں گے، ہم ان کے بل پر آپ کو 25 فیصد کمیشن دیں گے۔‘

ایک اور صاحب نے لکھا ہے کہ ان کی والدہ کو اینجیو پلاسٹی کرانے کا مشورہ دیا گیا، بعد میں انھوں نے ایک غیر ملکی ڈاکٹر سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، صرف دوائی کافی ہے۔ یہ بات اور ہے کہ یہ ڈاکٹر ان کے دوست کا بھائی تھا۔

بہرحال، ماہرین مانتے ہیں کہ اصل مسئلہ کمیشن کا ہے، اور بڑے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں پر زیادہ سے زیادہ سرجری، ٹیسٹ اور داخلوں کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

صحت کے سیکٹر میں کام کرنے والی ایک بیمہ کمپنی کے سینیئر مینجر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میرے سامنے ایک تشویش ناک تصویر پیش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ ایسی سرجری کر دی جاتی ہے جس کی ضروت ہی نہ ہو۔ انڈیا میں ہر تین میں سے دو عورتوں کے بچے سیزیرین سیکشن آپریش سے پیدا ہوتے ہیں لیکن جب ہم نےاپنی کمپنی میں ایک مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے آدھے کیسوں میں آپریشن کی ضرورت نہیں تھی۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’اسی طرح ہر سال جب ڈینگی کے کیس پھیلتے ہیں تو جن مریضوں کو ہسپتالوں میں داخل کیا جاتا ہے ان میں سے 70 فیصد کا علاج گھر پر بھی کیا جا سکتا تھا۔۔۔ہم نے ڈینگو کے کیسز کو ڈبلیو ایچ او کے معیار پر پرکھا اور اس نتیجے پر پہنچے۔۔۔ یہ سب کمیشن کے لیے کیا جاتا ہے۔‘

عالم سنگھ نے خود لمبے عرصے تک شعبہ طب میں کام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہسپتال کے اندر کیا ہو رہا ہے کسی کو نہیں معلوم، کبھی پرانے آلات استعمال کیے جاتے ہیں اور کبھی سستی دوائیاں، لیکن مریض سے پوری قیمت وصول کی جاتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ مسئلے کا حل کیا ہے؟ کیا واقعی لالچ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے؟

ڈاکٹر شکلا کا خیال ہے کہ ’ڈاکٹروں کو اپنی سوچ بدلنا ہو گی، یہ بزنس نہیں ہے۔ حالات بہتر ہو سکتے ہیں لیکن ایک موثر تحریک کی ضرورت ہے جس میں مریض، عام لوگ اور اصول پسند ڈاکٹر سب شریک ہوں اور اس کے علاوہ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کی نگرانی کا بھی نظام وضع کیا جانا چاہیے۔‘

اسی بارے میں