چین میں ماحولیاتی آلودگی ترقی کے لیے خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دنیا کے 45 فیصد کاربن اخراج کے ذمہ دار چین اور امریکہ ہیں

چین کے ایک اعلی سائنسدان نےخبردار کیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے ملک پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے جس سے پیداوار میں کمی اور آب و ہوا متاثر ہوں گے۔

چین میں اس طرح کے سرکاری اعترافات شاذ و نادر ہی کیے جاتے ہیں۔

زینگ گوانگ نے خبر رساں ایجنسی ژنوا کو بتایا ہے کہ ملک میں جاری بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے سے متعلق بڑے منصوبوں کو ماحولیاتی تبدیلی سے سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چین میں درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ عالمی معیار کے اعتبار سے پہلے ہی زيادہ ہے۔

چین دنیا کا سب سے آلودہ ملک ہے اور اس کا کہنا ہے کہ زہریلی گیسوں کا اخراج جس سے ماحول تبدیل ہوتا ہے وہ سنہ 2030 تک اپنے عروج پر ہونگے۔

اس صورتحال کے باوجود چین نے زہریلی گیسوں کے اخراج پر قابو پانے سے متعلق کوئی ہدف نہیں طے کیا ہے۔

زینگ گوانگ ملک کے محکمہ موسمیات کے سربراہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے سے چین میں قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار مائکل برسٹو کے مطابق چینی حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملک کو عالمی حدت سے خطرات ہیں لیکن انھوں نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ یہ خطرات کتنے سنگین اور کسی پیمانے کے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چین میں فضائی آلودگی بڑا مسلہ بنتی جارہی ہے

مسٹر زینگ کا کہنا ہے آنے والے وقتوں میں ملک کو خشک سالی، سیلاب، شدید گرمی کے خطرات لاحق ہیں جس کی وجہ سے ندیوں کا رخ بدلے گا اور فصلیں تباہ ہوں گی اور تھری گورجیز ڈیم جیسے بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبے متاثر ہونگیں۔

انھوں نے چین کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کاربن کے اخراج پر توجہ دے۔

زینگ گوانگ نے ژنوا نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ ’ماضی اور مستقبل کے چیلنجیز کا سامنا کرنے کے لیے ہمیں قدرتی ماحول کی قدر کرنی ہوگی اور اس کے ساتھ پیار محبت سے رہنا ہوگا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں قدرت کی بنائی چيزوں کو محفوظ رکھنے کےلیے اقدامات کرنے ہوں گے اور اپنے ماحول کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔‘

خیال رہے کہ پوری دنیا کے 45 فیصد کاربن اخراج کے ذمہ دار چین اور امریکہ ہیں۔ دونوں ممالک کے رہنما کاربن کے اخراج پر 2020 تک قابو پانے سے متعلق اس برس پریس میں ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔

کئی دہائیوں سے چين کی معاشی ترقی کی کوششوں نے اس کی توانائی کی ضروریات میں اضافہ کیا ہے۔ اس میں کوئلے کی ضرورت سب سے بڑھی ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے چین کی جانب سے کاربن کے اخراج میں کمی کرنے سے متعلق وعدے ماحول کو تباہی سے بچانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

اسی بارے میں