لیبیا میں اغوا کیےجانے والے بنگلہ دیشی رہا

لیبیا میں تیل کے ایک کارخانے کی تصویر تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption لیبیا میں گزشتہ برسوں میں تیل کے کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے

بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ لیبیا میں تین ہفتے قبل جن دو بنگلہ دیشی مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا ان کو رہا کر دیا گيا ہے اور وہ محفوظ و صحت مند ہیں۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد محفوظ ہیں اور لیبیا کے شہر سرت کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ان دونوں افراد کو اس ماہ کی چھ تاریخ کو طرابلس سے 700 کلومیٹر دور الغنی نامی تیل کے کارخانے سے سات اور بیرونی کارکنوں کے ہمراہ اغوا کر لیا گیا تھا۔

ایسا شک ظاہر کیا جا رہا تھا کہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ان افراد کو اغوا کیا ہوگا لیکن اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ڈھاکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ حلال الدین اور محمد انور حسین کو منگل کی شام کو رہا کیا گیا تھا۔

حلال الدین اور محمد انور حسین کے ساتھ جن ديگر بیرونی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا ان میں سے چار کا تعلق فلپائن سے ہے، ایک کا آسٹریلیا سے، ایک کا جمہوریہ چیک اور ایک کا تعلق گھانا سے ہے۔

ڈھاکہ میں موجود بی بی سی بنگالی سروس کی شہناز پروین کا کہنا ہے کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا ان افراد کی رہائی تاوان کی ادائیگی کے بدلے میں ہوئی ہے یا نہیں۔

مغوی افراد الغنی اوئل فیلڈ میں ’ویلیو ایڈیڈ اوئیل فیلڈ سروسز‘ یعنی وی اے او ایس نامی اوئیل میجنمٹ کمپنی کے لیے کام کر رہے تھے۔

حملے کے بعد لیبیا کی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس حملے میں کارخانے کی سکیورٹی پر مامور آٹھ محافظوں کے سر بھی قلم کیےگئے جنھیں دیکھ کر ایک کارکن دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا تھا۔

آئل فیلڈ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ اس حملے میں کون سا عسکریت پسند گروہ ملوث ہے اور اغوا ہونے والوں کو کہاں لے جایا گیا ہے۔غیر ملکیوں کو ہدف بنانے کے واقعات میں لیبیا کے موجودہ سیاسی بحران کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق لیبیا میں تیس ہزار بنگلہ دیشی ملازمت کرتے ہیں۔

لیبیا میں سنہ 2011 میں کرنل قدافی کی ہلاکت کے بعد سے مختلف باغی گروپ ملک کا اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں۔

الغنی تیل کی تنصیبات کا شمار ان اوئیل فیلڈز میں ہوتا ہے جو گزشتہ برسوں میں متعدد حملوں کا نشانہ بنی ہیں۔

اسی بارے میں