سری نگر میں پاکستانی پرچم کشائی پر تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پچھلے 25 سال سے یہ آسیہ اندرابی کا معمول رہا ہے اور وہ ہر سال یوم پاکستان اور 14 اگست کے روز، جو کہ پاکستان کا یوم آزادی ہے، پاکستانی پرچم لہراتی ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں یوم پاکستان کے موقعے پر پاکستانی پرچم لہرائے جانے پر نئی دلّی کے سیاسی حلقوں میں زبردست ہلچل مچی ہوئی ہے۔

اپوزیشن کی سخت تنقید کے بعد ریاست میں بی جے پی کی حمایت یافتہ حکومت نے خاتون علیحدگی پسند رہنما آسیہ اندرابی کے خلاف غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقعے پر نئی دلّی میں پاکستانی سفارتخانے پر علیحدگی پسندوں اور پاکستانی سفیر کے درمیان ملاقاتوں پر بھی خاصا تنازع پیدا ہوگیا ہے۔

پولیس ذرائع نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کے خلاف غیرقانونی سرگرمیوں سے متعلق قانونی دفعہ کے تحت سرینگر کے نوہٹہ تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

انھوں نے یوم پاکستان کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کیا جن کے دوران پاکستانی پرچم لہرایا گیا اور ان کی دوسری خاتون کارکنوں نے پاکستان کا قومی ترانہ بھی گایا۔

واضح رہے پچھلے 25 سال سے یہ آسیہ اندرابی کا معمول رہا ہے اور وہ ہر سال یوم پاکستان اور 14 اگست کے روز، جو کہ پاکستان کا یوم آزادی ہے، پاکستانی پرچم لہراتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور اس کے باوجود بھارتی حکام یہاں بھارتی ترنگا لہراتے ہیں اور یہاں کے باشندوں کو سیاسی خواہشات کا مظاہرہ کرنے سے روکتے ہیں۔

آسیہ نے بی بی سی کو بتایا ’اگر یہ جرم ہے تو میں یہ جرم بار بار کروں گی۔ جموں کشمیر متنازع خطہ ہے، اس کے باوجود فوجی طاقت کے بل پر بھارت ہر سال یہاں ترنگا لہراتا ہے۔ ہم تو پاکستانی پرچم لہراکر اپنی سیاسی خواہشات کا اظہار کرتے ہیں ۔ اور پھر میں پاکستانی پرچم نئی دلّی میں نہیں جموں کشمیر کی سرزمین پر لہرایا جو میری زمین ہے۔‘

پرچم کشائی کا یہ تنازع اس لیے بھی زیادہ توجہ کا باعث بن رہا ہے کیونکہ پہلی مرتبہ کشمیر میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حمایت سے ایک حکومت بنی ہے جس کے وزیراعلی مفتی محمد سعید ہیں۔

یوم پاکستان کے موقعے پر نئی دلّی میں پاکستانی سفیر کے ساتھ علیحدگی پسندوں کی ملاقاتوں اور سری نگر میں آسیہ اندرابی کی پرچم کشائی کے معاملے پر بھارتی میڈیا میں کل سے ہی ہنگامہ پرپا ہے۔ ایک ٹی وی چینل نے تو بِی جے پی کو آسیہ کی گرفتاری کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔

اس تنازع سے متعلق یہاں کے بعض ہندو نواز حلقے بھی ناراض معلوم ہوتے ہیں۔ شمالی کشمیر کے لنگیٹ انتخابی حلقے کے رکن اسمبلی انجنیئر عبدالرشید کہتے ہیں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہانہ بنا کر دراصل حکومت ہند مسلہ کشمیر کو حل کرنے کی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔

انجنئیر رشید کہتے ہیں ’آسیہ نے کوئی جرم نہیں کیا۔ وہ اور ان کے ہم خیال سمجھتے ہیں کہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ ہونا چاہیے۔ اور پھر اگر یہاں پاکستان کا پرچم لہرایا جاتا ہے تو یہ ثبوت ہے کہ بھارت کشمیریوں کے دل و دماغ جیتنے میں ناکام ہوگیا ہے اور اپنی خفت مٹانے کے لئے چھوٹی چھوٹی باتوں پر مقدمے درج کیے جاتے ہیں۔‘

قابل ذکر ہے کہ انجنئیر رشید نے گذشتہ برس سرینگر میں ریاست کا آئینی پرچم لہرایا تو ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا۔ واضح رہے 1947 میں جس معاہدے کے تحت جموں کشمیر بھارت کا حصہ قرار پایا تھا، اس کی رو سے کشمیر کا اپناعلیحدہ آئین، پولیس کی دفعات اور اپنا ایک آئینی پرچم ہوگا جو بھارتی پرچم کے ہمراہ تمام سرکاری تنصیبات پر لہرائے گا۔

کشمیر میں پرچم کشائی کی متنازع روایات بہت پرانی ہیں۔ سنہ 1992 میں جب یہاں مسلح تحریک عروج پر تھی تو بی جے پی کے رہنما مرلی منوہر جوشی اور نریندر مودی، جو فی الوقت بھارت کے وزیراعظم ہیں، نے سخت کرفیو کے دوران لال چوک میں بھارتی ترنگا لہرایا تھا۔

دریں اثنا گذشتہ ہفتے ایک رٹ درخواست کی سماعت کے دوران مقامی عدالت نے حکم جاری کیا کہ تمام سرکاری عمارتوں اور گاڑیوں پر بھارتی پرچم کے ہمراہ ریاستی پرچم بھی لہرایا جائے۔ اس ضمن میں جب حکومت نے حکم نامہ جاری کیا تو بی جے پی کے دباؤ کے تحت یہ حکم نامہ 24گھنٹوں کے اندر ہی کالعدم قرار دیا گیا۔

اسی بارے میں