زیادتیاں ہوئی ہیں لہٰذا ازالہ ضروری ہے: اشرف غنی

تصویر کے کاپی رائٹ arg
Image caption اشرف غنی کے بقول وہ معصوم لوگوں کے استحصال کو معاف نہیں کریں

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان کے بعض ارکان کے اپنے ساتھ روا رکھے گئے سلوک اور تشدد کے بارے میں شکایات جائز ہیں اور یہ ضروری ہے کہ معذرت کا طریقہ ڈھونڈا جائے اور قوم کے زخموں پر مرہم رکھا جائے۔

واشنگٹن کے دورے پر گئے افغان صدر کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ اور روانڈا نے جس طرح سچ اور مفاہمت کا کمیشن بنایا تھا جس کا مقصد ماضی کی زیادتیوں کا ازالہ کرنا تھا نہ کہ سزائیں دینا۔ یہ طریقۂ کار صدمے کا شکار قوم کے لیے ایک مجموعی بحالی کا باعث بنا۔

گذشتہ ماہ پاکستان اور افغانستان کے حکام نے کہا تھا کہ افغانستان طالبان نے اشارہ دیا ہے کہ وہ کابل کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی کے مطابق شدت پسندوں کے ساتھ امن لازمی ہے کیونکہ بعض طالبان کی شکایات جائز ہیں۔

’کئی لوگوں کو جھوٹے الزامات میں قید کیا گیا، ان پر تشدد ہوا، ان پر نجی مکانات اور نجی قیدخانوں میں تشدد ہوا۔ ‘

’آپ ان لوگوں سے کیسے کہہ پائیں گے کہ آپ شرمندہ ہیں۔‘

یہ باتیں انھوں نے امریکہ کے پیس تھنک ٹینک میں خطاب کے دوران کہیں۔

اشرف غنی نے امریکی سینیٹ کمیٹی کی اس رپورٹ کی بھی تعریف کی جس میں تسلیم کیا گیا کہ سی آئی اے نے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد قیدیوں کے ساتھ بشمول افغانستان انتہائی ظالمانہ سلوک کیا۔

اشرف غنی نے افغانستان میں مقامی قبائلی جرگے یا کونسل کے تحت نظامِ انصاف کا ذکر کرتے ہوئے اسے مغربی نظامِ انصاف کے ساتھ موازنہ کیا۔

اشرف غنی کا کہنا تھا ’امن کا مطلب ہے خون معاف کرنا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ جنگ عظیم دوئم کے بعد یورپ نے ’تاریخی فراموشی‘ کی مثال قائم کی۔

اشرف غنی کے بقول وہ معصوم لوگوں کے استحصال کو معاف نہیں کریں اور وعدہ کیا کہ اس میں ملوث ہر شخص کو برخاست کر دیا جائے گا۔ لیکن ان کا کہنا تھا کہ ماضی کافی پیچیدہ رہا ہے۔

’ہم ماضی کی خاطر اپنا مستقبل قربان نہیں کر سکتے۔ ہمیں توازن لانا ہوا۔ اگر ہم صرف ماضی کو دیکھتے رہیں گے تو ہم مستقبل تباہ کر دیں گے۔‘

اشرف غنی جو گذشتہ برس صدر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں امریکہ کے پانچ روز دورے پر ہیں تاکہ حامد کرزئی کے دور میں کشیدہ ہونے والے تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔

بدھ کو اپنی تقریر میں انھوں نے کہا کہ قومی مفاہمی ان کی حکومت کا ستون ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر طالبان آئین کا احترام کرنے کے لیے راضی ہو جاتے ہیں تو اس عمل کے ذریعے انھیں افغان معاشرے میں دوبارہ مقام مل سکے گا۔

اسی بارے میں