مودی، کیجریوال کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اروند کیجریوال کا سیاسی عروج بھارت کی سیاست میں غیر معمولی تھا

بھارت کی سیاست کچھ عرصے سے زبردست تغیر سے گزر رہی ہے۔

اسی سیاسی تغیر کے درمیان گجرات کے سابق وزیر اعلی نریندر مودی گزشتہ مئی کے پارلیمانی انتخابات میں زبردست اکثریت کے ساتھ ملک کے وزیر اعظم بنے۔

پھر دو مہینے پہلے بھارت کی سب سے نئی جماعت عام آدمی پارٹی دہلی کی 70 رکنی اسمبلی میں 67 سیٹوں کےساتھ اقتدار میں آئی اور پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال اب دہلی کے وزیر اعلی ہیں ۔

مودی اور کیجریوال کا کرشماتی سیاسی عروج بھارت میں زبردست تبدیلی کی عوام کی بے چین تمناؤں کا غماز ہے۔

عام آدمی پارٹی کی حکومت نے ابھی پوری طرح کام بھی نہیں شروع کیا کہ وہ اس وقت اپنے وجود کے بدترین انتشار سے گزر رہی ہے۔

جس والہانہ انداز میں دہلی کی عوام نے اروند کیجریوال کی قیادت میں آپ پارٹی کو فتح یاب کیا تھا گزشتہ چند دنوں میں اس نے اتنی ہی شدت سے عوام کے جذبوں اور دلوں کو توڑا ہے۔

’عاپ‘ پارٹی ان دنوں زبردست اندرونی انتشار اور اختلافات کا شکار ہے اور جماعت کے دو انتہائی اہم بانی رہنماؤں کو تمام فیصلہ ساز کمیٹیوں اور اداروں سے باہر کر دیا گیا ہے۔

یہ دونوں رہنما جماعت کےاندر فیصلہ سازی میں جمہوری اصولوں کی پاسداری کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی ایک شخصی طرز کی جماعت نہیں ہونی چاہئے بلکہ وہ اندورنی جمہوریت کی بنیاد پر چلنی چاہیے۔

اروند کیجریوال کی ایک پارٹی کارکن سے بات چیت کی خفیہ ریکا رڈنگ کے انکشاف سے کیجریوال کی شخصیت کا جو پہلو سامنے آیا ہے اس کی توقع یقیناً کسی نے نہیں کی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے مودی کے پاس وقت زیادہ نہیں ہے

انھوں نے پارٹی کے اندر سوال اٹھانےوالے کچھ سینیئر رہنماؤں کے بارے میں جس غیر پارلیمانی زبان میں بات کی ہے وہ یقیناً جمہوری سوچ سے مطابقت نہیں رکھتی۔

عام آدمی پارٹی ایک این جی او تھی اور وہ بدعنوانی کے خلاف ایک عوامی تحریک کے بعد ایک سیاسی جماعت کی شکل میں وجود میں آئی۔

پارٹی نے خود کو کانگریس اور بی جے پی اور دیگر جماعتوں کے ایک بہتر متبادل کے طور پر پیش کیا تھا۔ عوام کو ایسا لگنے لگا تھا کہ ملک میں ایک شفاف اور ایماندار اور متبادل سیاست کا آغاز ہوگیا ہے۔

تاہم اب اس پارٹی کے اندر گذشتہ چند دنوں سے جس طرح کی رسہ کشی چل رہی ہے اس سے بہت سے رضاکار اور اہم لوگ تو اس سے الگ ہونگے ہی عوام کی امیدیں بھی ٹوٹتی جائیں گی ۔

اروند کیجریوال کی ہی طرح وزیر اعظم نریندر مودی کا بھی سیاسی عروج بھارت کی سیاست میں غیر معمولی تھا۔

انھوں نے خود کو ترقی اور تبدیلی کا مسیحا بنا کر پیش کیا اور انتخابات کے دوران ایسی باتیں کیں کہ جیسے ان کے وزیراعظم بنتے ہی ملک کی تقدیر بدل جائے گی اور بھارت میں ترقی کا ایک انقلاب آ جائے گا۔

مودی کی حکومت کے دس مہینے گزر چکے ہیں اور ابھی تک ایسا کہیں نہیں محسوس ہوا کہ ان کی حکومت پچھلی منموہن سنگھ حکومت سے بہت مختلف ہے۔

دس مہینے کی ان کی حکومت کے دوران ایسا کوئی تاثر نہیں ملا ہے کہ ان کی حکومت کوئی بڑا اور ایسا کام کام کرنے والی ہے جو پہلے سے بہت مختلف ہو اور مودی حکومت سے مایوسیاں بڑھنے لگی ہیں۔

مودی اور کیجریوال دونوں کے لیے ایک موافق صورتحال یہ ہے کہ ان کے پاس اب بھی اقتدار کے کئی برس باقی ہیں اور اس مدت میں وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

لیکن عوام کی تمنائیں اور خواب ان سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے تصور سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہیں۔

اگر ان حکومتوں اور رہنماؤں نے جلد ہی اہم اور بڑے اقدامات نہ کیے اور ملک کی سیاست تبدیل نہ کی تو ان حکومتوں کو میڈیا اور زبردست عوامی مزاحمت کا سامنا ہو گا۔

مودی اور کیجریوال دونوں کا وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔

اسی بارے میں