چین کا کرپشن کے خلاف سکائی نیٹ

صدر شی تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ منصوبہ صدر شی کے کرپشن کے خلاف اقدامات کی ایک کڑی ہے

چین نے اعلان کیا ہے کہ ملک سے بھاگ کر دوسرے ممالک میں جانے والے کرپٹ اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے نئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اس منصوبے کو سکائی نیٹ کہا جا رہا ہے اور یہ اگلے مہینے سے شروع کیا جائے گا۔ یہ صدر شی جنپنگ کے کرپشن کے خلاف اقدامات کی ایک کڑی ہے۔

یہ ملک سے باہر کمپنیوں اور انڈر گراؤنڈ یا پسِ پردہ بینکوں کے ساتھ مل کر تحقیقات کرے گا جو پیسے ملک سے باہر بھیجتے ہیں۔

چین کو کرپشن کو روکنے اور مشتبہ افراد کو پکڑنے کے لیے بین الاقوامی مدد بھی درکار ہے۔

شینوا نیوز ایجنسی کے مطابق گزشتہ سال کے آخری چھ ماہ میں دوسرے ممالک سے اقتصادی جرائم کے شبہے میں 680 مشکوک افراد کو وطن واپس لایا گیا ہے۔

سزا سے بچنے کے لیے 150 کے قریب مفرور افراد صرف امریکہ میں ہی رہ رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکائی نیٹ کا مطلب ہے کہ اب قانون سے چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

سنہ 2012 میں شی جنپنگ کے برسرِ اقتدار جماعت کا سربراہ بننے کے بعد سے چلائی جانے والی انسدادِ کرپشن کی مہم میں کئی سینیئر اہلکاروں کے خلاف مقدمات چلائے گئے اور سزائیں دی گئی ہے۔

انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ انسدادِ کرپشن کی اس مہم میں ’شیروں‘ اور ’مکھیوں‘ یعنی بڑے اور چھوٹے اہلکاروں کو بلا امتیاز پکڑیں گے۔

اسی بارے میں