ازبکستان: صدر اسلام کریموف ایک اور ’فتح‘ کےقریب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ازبکستان کے صدر اسلام کریموف اور قزاقستان کے صدر نورسلطان نذربائیوف گزشتہ پچیس برسوں سے اقتدار میں ہیں

ازبکستان کے موجودہ صدر اسلام کریموف ایک بار پھر صدارتی انتخابات میں فتح کے قریب ہیں۔ اسلام کریموف ازبکستان کے سوویت یونین سے 25 برس پہلے علیحدگی کے وقت سے اقتدار پر براجمان ہیں۔

صدر کریموف کو ایسے مخالف امیدواروں سے مقابلہ تھا جن کی جماعتیں بھی ان کی حمایت کر رہی ہیں۔کسی آزاد امیدوار کو صدر کریموف کے خلاف الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ازبکستان میں حزب مخالف کے رہنما یا تو جیل میں ہیں یا پھر ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔

وسطی ایشیا میں طاقت میں رہنے کے پانچ سنہری اصول

الیکٹورل کمیشن کے مطابق ووٹروں کا ٹرن آؤٹ اکانوے فیصد تھا اور سوموار کے روز نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔

ستتر سالہ کریموف 1989 سے اقتدار میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نوے فیصد سے زیادہ وٹروں نے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالے: الیکٹورل کمیشن

ازبکستان کے آئین کے مطابق کوئی امیدوار دو بار سے زیادہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا لیکن اسلام کریموف نے انتخابات سے پہلے آئین میں ترمیم کر لیتے ہیں۔

تاشقند میں ایک اٹھارہ سالہ نوجوان ووٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’میں نے صدر اسلام کریموف کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔ وہ نوجوانوں کے بارے میں جو کچھ کر رہے ہیں میں اس سے بہت مطمعن ہوں۔‘

ایک ٹیکسی ڈرائیور نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا: ’میں چاہتا تھا کہ ہمارے محترم صدر اسلام کریموف اقتدار کسی قدرے کم عمر شخص کو منتقل کر کے ریٹائر ہو جاتے اور ریٹائرمنٹ کی زندگی سے لطف اندوز ہوتے۔ لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں نہیں جانتا کہ میں کس کو ووٹ دوں۔‘

یورپی تنظیم ’آرگنائزیشن فار سکیورٹی اور کوآپریشن ان یورپ (او ایس سی ای) نے اپنے مبصر ازبکستان بھیجے ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ گزشتہ صدارتی انتخابات میں ازبک ووٹروں کو کوئی حقیقی متبادل فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

باوجود اس کے کہ اسلام کریموف کی فتح تقریباً یقینی ہے لیکن عدم استحکام کے کچھ آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ رواں سال کے شروع کے عرصےمیں صدر کریموف کے ایک لمبے عرصے تک عوام کی نظروں سے غائب رہنے کی وجہ سے ان کی صحت کے بارے قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں۔

ازبکستان کی شہزادی گھر میں نظر بند

’ازبک شہزادی‘ کی تصاویر منظر عام پر

ان کے اپنی بیٹی گلنارا سے اختلافات پیدا ہو چکے ہیں اور وہ گھر میں نظر بند ہے۔ گلنارا کو صدر اسلام کریموف کا جانیشن تصور کیا جاتا تھا۔

اسی بارے میں