ڈھاکہ میں ایک اور ’بلاگر‘ کا قتل، دو افراد زیرِ حراست

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رواں سال فروری میں ایک بلاگر کو مذہبی انتھا پسندی کے خلاف آواز اٹھانے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک اور بلاگر کو چاقو کے وار کر کے قتل کر دیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ قتل ہونے والے بلاگر کا نام وشیق الرحمٰن ہے اور یہ واقعہ دارالحکومت میں تیجاؤں نامی علاقے میں پیر کو پیش آیا۔

پولیس اہلکار بپلوب کمار کے مطابق وشیق الرحمٰن کو حملے کے بعد ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے تین چھرے ملے ہیں اور دو مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ ایک مشتبہ شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

یہ ڈھاکہ میں چند ہفتوں میں کسی بلاگر کی اس طرح ہلاکت کا دوسرا واقعہ ہے۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیش میں ایک ماہ قبل نامعلوم حملہ آوروں نے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف لکھنے والے معروف بنگلہ دیشی نژاد امریکی بلاگر اویجیت رائے کو قتل کیا تھا۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وشیق الرحمٰن بابو کس قسم کے بلاگز لکھتے تھے۔

مقتول کے دو رشتہ داروں نے ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال میں موجود صحافیوں کو بتایا کہ بابو نے ابھی حال ہی میں اپنی تعلیم مکمل کی تھی اور ایک ٹریول ایجنسی میں نوکری شروع کی تھی۔

تاہم انھوں نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ بابو بلاگز لکھا کرتے تھے۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ بابو کے فیس بک پیچ پر ایک لائن لکھی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ27 فروری کو بنگلہ دیش میں قتل ہونے والے بنگلہ دیشی نژاد امریکی بلاگر اویجیت رائے کے فالوور تھے۔

اسی بارے میں