ویسے آپ کی اہلیہ کیا کرتی ہیں؟

انڈین خواتین اور مرد تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا میں خواتین کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ ان کی شادی ہونا لازمی ہے

کئی برس قبل میں بی بی سی کے ایک کام سے دہلی سے باہر جارہی تھی۔ میں نے رات کی ٹرین لی، اپنی سیٹ پر بیٹھی اور جیسے ہی سکون کی سانس لی میرے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا ایک آدمی مجھ سے باتیں کرنا لگا۔

انھوں نے پوچھا میں کہاں جارہی ہوں، میرا تعلق انڈیا کے کس حصے سے ہے اور میں کرتی کیا ہوں؟

پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کے خاوند کیا کرتے ہیں؟

میں نے انہیں بتایا بھی نہیں تھا کہ میں شادی شدہ ہوں۔ مجھے ان کا یہ سوال ناگوار گزرا۔ ان کے لیے یہ اہم نہیں تھا کہ میں ایک صحافی ہوں اور کام کے سلسلے میں سفر کررہی ہوں۔

ان کے لیے میں صرف ایک خاتون تھی اور مردوں کے غلبے والے بھارتی سماج میں ایک عورت کا تب تک کوئی وجود نہیں ہے جب تک وہ کسی کی بیٹی، بیوی، یا بہن نہ ہو۔

یہ پہلی بار نہیں تھا کہ جب مجھ سے کسی نے یہ سوال پوچھا ہو، اور نہ ہی یہ آخری بار ہے۔میری بہت سی سہیلیوں نے مجھے بتایا ہے کہ ان کی جان پہچان والے اکثر ان سے یہ سوال پوچھتے ہیں پھر چاہے جان پہچان دو منٹ پرانی ہی ہو۔

میں نے فیصلہ کیا کہ میں سڑک پر راہ چلتے مردوں سے یہ سوال پوچھوں گی کہ آپ کی بیگم کیا کرتی ہیں؟

یہ صرف ایک جذباتی فیصلہ تھا جس کے پیچھے کوئی سائنسی وجوہات نہیں تھیں۔

لیکن مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ جن مردوں سے میں نے بات کی ان میں سے بیشتر کو اس سوال کا جواب دینے میں کوئی پریشانی نہیں تھی۔

Image caption محمد محسن کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے

جس مرد سے بھی میں نے بات کی سب نے یہی کہا کہ ان سے اس سے پہلے کبھی یہ سوال نہیں پوچھا گیا اور ان سبھی مردوں نے اپنی بیوی کے بار میں پیار محبت اور عزت سے بات کی۔

محمد محسن کی عمر 27 برس ہے اور انہوں نے شرماتے ہوئے بتایا کہ وہ ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔

محسن کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں بہت سے لوگوں نے متعدد سوالات پوچھے ہیں لیکن ان سے یہ سوال کسی نے نہیں پوچھا کہ ان کی بیوی کیا کرتی ہیں۔’

جب میں نے ان سے یہ سوال پوچھا تو وہ ناراض نہیں ہوئے ہاں تھوڑی شرم ضرور محسوس کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا ’پہلے مجھے اپنا کاروبار مستحکم کرنے دیں پھر میں شادی کے بارے میں سوچوں گا۔’

آٹو رکشا چلانے والے سندیپ یادو کا کہنا ہے ’میری بیوی گھر، زمین اور ہمارے مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔’

53 سالہ سندیپ یادو کا تعلق اترپریش کے ایک گاؤں سے ہے اور گزشتہ آٹھ سالوں میں دہلی میں کام کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ ان کے گاؤں میں رہتی ہیں اور ’وہ میرے چار بچوں، تین گایوں، ایک بھینس اور ایک بچھڑے’ کی دیکھ بھال کرتی ہے۔

سندیپ یادو کو میرے سوال پوچھنے سے کوئی پریشانی نہیں تھی۔

’آپ نے مجھ سے سوال پوچھا میں نے جواب دے دیا، اس میں بڑی بات کیا ہے۔ میری اہلیہ گاؤں میں رہتی ہیں۔ آپ وہاں جا نہیں سکتی اور اس کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچاسکتی تو میں ناراض کیوں ہوں۔’

Image caption دھرو کھوسلا کسی سے ذاتی سوال نہیں کرتے ہیں

منوج سنگھ راٹھور کی عمر 28 برس ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شادی کرنے کی ان کی ابھی عمر نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے ’میرے والدین ہمیشہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں شادی کب کروں گا، میں ان سے کہتا ہوں تب جب میں شادی کے لیے تیار ہوں گا۔‘

راٹھور کا کہنا ہے کہ جب لوگ خواتین سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ان کے خاوند کیا کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی لوگ بہت ’دوستانہ لوگ‘ ہیں۔

’لوگ صرف آپ سے دوستی کرنا چاہتے ہیں’۔

دھرو کھوسلا کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں سے ذاتی سوالات اس لیے نہیں پوچھتے ہیں کیونکہ ’میں نہیں چاہتا کہ لوگ مجھ سے ذاتی سوالات پوچھیں۔‘

31 سالہ دھرو کھوسلا ایک انجینیئرنگ فرم میں مینیجر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بھارتی لوگ اس لیے اس طرح کی سوالات پوچھتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ’اگر آپ کی عمر 20 برس سے تجاوز کرگئی ہے تو آپ شادی شدہ ہوں گے۔‘

ان کا کہنا ہے بوڑھے لوگ اس طرح کے سوالات کرتے ہیں، نئی نسل مختلف ہے۔

’میری طلاق ہوچکی ہے۔ میرے بیشتر دوست اور میری بڑی بہن کی غیر شادی شدہ ہیں۔ ہم سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ ہماری شادی ہوئی ہے یا نہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے ’اجنبی لوگوں کو یہ سوال نہیں کرنا چاہیے۔‘

کیا ان کو کبھی ایسا لگا ہے کہ اس سوال کرنے والے کی وہ پٹائی کریں۔ ان کا جواب تھا ’ ہاں‘۔

وہیں جگدیش سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ سوال ایسا سوال ہے جو گفتگو شروع کرنے میں مدد کرتا ہے اور یہ ’ذاتی سوال نہیں ہے اور مجھے غصہ نہیں آئے گا۔‘

ان کی اہلیہ کالج میں پڑھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے دوست اور دور دراز کے رشتے دار ان سے یہ تو پوچھتے کہ ان کی شادی ہوئی ہے یا نہیں لیکن کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ ان کی اہلیہ کیا کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’خواتین سے ان کی شادی کے بارے میں اس لیے پوچھا جاتا ہے کیونکہ یہاں یہ تصور عام ہے کہ لڑکیوں کو شادی لازمی کرنی چاہیے۔ بھارتی لوگ یہ بات قبول نہیں کرسکتے ہیں کہ عورت غیر شادی شدہ ہو سکتی ہے۔‘

انوبھو راج کی عمر تیس برس ہے، پیشے سے وہ ایک انجینیئر ہیں اور شادی شدہ ہیں۔

جب میں نے ان سے یہ سوال پوچھا کہ ان کی اہلیہ کیا کرتی ہیں تو وہ ناراض ہوئے اور کہنے لگے ’ آپ مجھ سے یہ سوال کیوں پوچھ رہی ہیں۔‘

لیکن جب میں نے ان کو وجہ بتائی تو وہ کہنے لگے ’جب آپ نے مجھ سے یہ سوال پوچھا تھا تو مجھے برا لگا تھا، لیکن ہاں اتنا اجنبی سوال نہیں ہے۔ ویسے میری اہلیہ ایک بوتیک چلاتی ہیں جہاں وہ اپنے ڈیزائن کیے ہوئے ملبوسات فروخت کرتی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں ’اس طرح کی ذاتی تفصیلات بتانے میں کوئی پریشانی نہیں ہے لیکن، وہ کسی اور کے ساتھ اس طرح کی باتیں نہیں کریں گے۔‘

مشرا نے اکثر لوگوں کے میرے سوال پر پریشان ہونے کی ایک نئی اور مختلف وجہ بتائی۔

انھوں نے بتایا ’اگر کسی کہ اہلیہ کامیاب ہے تو آپ پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ میں خوشی خوشی اپنی اہلیہ کے بارے میں بتا رہاں ہوں کیونکہ وہ کامیاب ہیں۔ مجھے ان پر فخر ہے’۔

مشرا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان سے کبھی یہ سوال نہیں پوچھا گیا کہ ان کی اہلیہ کیا کرتی ہیں لیکن ’میری اہلیہ سے اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ میں کیا کرتا ہوں’۔

ان کا مزید کہنا ہے ’مجھے لگتا ہے کہ اسے یہ سوال برا نہیں لگتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسے برا لگتا اگر میں ناکام ہوتا۔ مجھے لگتا ہے لوگ تب اپنی بیوی اور شوہر کے بارے میں سوالات سے اس وقت پریشان ہوتے جب وہ شادی سے خوش نہیں ہوتے۔‘

جب میں نے یہی سوال میرے ساتھ میٹرو ٹرین میں بیٹھے ڈاکٹر وجے گوئل سے پوچھا تو انہیں بہت برا لگا لیکن پھر بعد میں وہ بات کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔

ان کا کہنا تھا ’آپ کون ہیں؟ آپ مجھ سے یہ سوال کیوں پوچھ رہی ہیں؟ آپ مجھ سے اس طرح کے سوالات نہیں کر سکتیں۔‘

میں نے جب ان کو بتایا کہ مجھ سے متعدد بار یہ سوال پوچھا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا ’ اگر کوئی مرد آپ سے آدھے گھنٹے سے بات چیت کررہا تھا تو وہ اس طرح کے سوالات پوچھ سکتا ہے۔‘