گائے، بیلوں کی تصاویر تھانے میں جمع کرانے کا حکم

گائے کی تصویر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مہاراشٹر میں گائے کو ذبیحہ کرنے پر پہلے سے ہی پابندی ہے

بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر مالیگاؤں میں پولیس نے گائے اور بیلوں کے مالکان سے کہا ہے کہ وہ اپنے جانوروں کی تصاویر تھانے میں جمع کرائیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست میں گوونش (گائے کی نسل کے کسی بھی جانور) کے ذبیحے کرنے پر پابندی کے باوجود اگر کوئی مجرمانہ معاملہ سامنے آتا ہے تو اس سے تفتیش میں آسانی ہوگی۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جانوروں کا ریکارڈ تیار کرنے اور ان کی گنتی کرنے کے مقصد سے یہ حکم جاری کیا گیا ہے۔

مالیگاؤں کے اڈیشنل سپریٹنڈنٹ پولیس سنیل کڈاسنے نے بی بی سی ہندی کو بتایا ’ شہر کے سارے جانوروں کی گنتی کرنے اور جھوٹی شکایتوں کے بارے میں تفتیش کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مالیگاؤں میں گائیں اور بیلوں کے گوشت کے غیر قانونی کاروبار پر روک لگانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption مہاراشٹر حکومت کے اس فیصلے سے ہوٹلوں کے مالکان بھی ناراض ہیں

مالیگاؤں کے ایک نوجوان شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیا قانون غریبوں کے پیٹ پر لات مارنے کے برابر ہے۔ ریاست مہاراشٹر کی حکومت کے گو ونش (گائے کی نسل کے کسی جانور) کے ذبیحے پر پابندی والے قانون کے نفاذ سے اس کاروبار سے وابستہ لاکھوں لوگوں کا کاروبار بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

ریاست میں گائے ذبح کیے جانے پر پہلے سے پابندی تھی تاہم اب بیل یا بچھڑے ذبح کرنے پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔

ان میں بڑے جانوروں کے گوشت کا کاروبار کرنے والے، اس گوشت سے بنے پکوان فراہم کرنے والے ہوٹل اور ریستوران، چمڑے کی اشیا کے تاجروں کے علاوہ لاکھوں قصاب بھی شامل ہیں۔

مہاراشٹر کوونش ذبیحے پر پابندی کے قانون کے تحت پہلا معاملہ مالیگاؤں میں ہی درج ہوا ہے۔

نئے قانون کے تحت اگر کوئی شخص گائے، بیل یا بچھڑے کو ذبح کرنے کا قصوروار پایا جاتا ہے تو پانچ سال تک سزا ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں