کشمیر میں لوگ خوف زدہ ہیں

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ HAZIQ QADRI
Image caption چاڈورہ قصبے میں 30 مارچ کو مٹی کا تودہ گرنے کا واقعہ پیش آیا تھا

بھارت کے زیر اتنظام جموں و کشمیر میں پیر کو مٹی کے تودے گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں اور آئندہ تین دنوں تک مزید بارش کی پیشن گوئی کے بعد لوگ خوف زدہ ہیں۔

ریاست کے بڈگام ضلع کے چاڈروہ قصبے میں 30 مارچ کو مٹی کا تودہ گرنے کے سبب 15 افراد ملبے تلے دب جانے سے ہلاک ہو گئے تھے۔

اس دوران دریائے جہلم میں پانی کی سطح سیلاب کے خطرے سے نیچے آگئی ہے۔

چاڈورہ قصبے کے تقریباً پانچ گھر مٹی کے تودوں کی زد میں آئے تھے ان میں سے دو گھر مکمل طور پر ملبے کے نیچے دب گئے تھے۔ اس حادثے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

چاڈورہ قبضے کے غلام دین حاجم ان افراد میں شامل ہیں جو 30 مارچ کی صبح سب سے پہلے جائے وقوع پر پہنچے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ اس رات قریب ایک بجے ایک شدید دھماکے کی آواز سن کر وہ جاگ گئے تھے، لیکن تیز بارش اور خوف کی وجہ سے نہ تو وہ اور نہ ہی کوئی اور رات کو جائے وقوع پر پہنچ سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کشمیر میں گزشتہ برس آنے والے سیلاب میں تقریبا 250 افراد ہلاک ہوگئے تھے

غلام دین کہتے ہیں ’ اگلی صبح جب ہم وہاں پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ قصبے کا ایک علاقہ تقریباً اجڑا ہوا تھا۔ وہاں کوئی اور نہیں تھا جو ان لوگوں کی مدد کرسکتا۔‘

مٹی کے تودے گرنے سے انسانوں کے علاوہ متعدد مویشی بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

خراب سڑک اور فون لائنز ٹوٹنے کی وجہ سے کوئی بھی سرکاری اہلکار صحیح وقت پر جائے وقوع نہیں پہنچ پایا۔ اگر وقت پر امدادی اہلکار وہاں پہنچ جاتے تو کئی جانیں بچائی جاسکتی تھیں۔

75 سالہ صہیب دین کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلی بار اس شدت کا واقعہ دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’میرا گھر بھی اب محفوظ نہیں ہے۔ ہم نے دوسرے گاؤں میں اپنے رشتے داروں کے ہاں پناہ لی ہے۔ ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ ہم دوبارہ یہاں آکر کیسے رہیں گے۔‘

صہیب دین کہتے ہیں کہ مٹی کے تودے گرنے کی آواز اتنی تیز تھی کہ ان کی آنکھ کھل گئی تھی اور انھوں نے دیکھا کہ ان کا گھر بھی ہل رہا تھا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قصبے کے نوجوان گزشتہ برس کشمیر میں آنے والے سیلاب کے دوران امدادی کاروائیوں میں شامل تھے۔

مٹی کے تودے گرنے کے حالیہ واقعہ سے مقامی لوگ بے حد خوف زدہ ہیں اور اپنا اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر چلے گئے ہیں۔

اس سے پہلے کشمیر میں چھ ماہ قبل ہی آنے والے صدی کے بدترین سیلاب میں کم سے کم 250 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس آنے والے سیلاب کی وجہ سے جموں و کشمیر کی مجموعی اقتصادیات کو ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

ابتدائی تخمینوں کے مطابق سیلاب کی وجہ سے ساڑھے تین لاکھ مکانات گر گئے تھے۔

اسی بارے میں