ایک معاہدہ جس نے ایران کو کچھ وقت دلا دیا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایران کے جوہری پروگرام پر عبوری معاہدہ طے پانے کے بعد تہران میں منائے جانے والے جشن کا ایک منظر

یہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی کوششوں کی ہنگامہ خیز تاریخ کا اہم موڑ ہے۔

تہران کےساتھ جوہری معاہدہ کن اوصاف کا حامل ہوگا اس پر بری طرح منقسم رائے پائی جاتی ہے۔

امریکی کانگریس میں اکثریت کسی بھی قسم کی ڈیل کے مخالف ہیں اور ان کے مقابلے میں جوہری اسلحہ کے کنٹرول سے متعلق ماہرین کا موقف ہے کہ سفارت کاری کے نتائج سامنے آئے ہیں۔

ان کی ہمیشہ سے ترجیح یہی تھی کہ ایک معاہدہ طے پائے تاکہ فوجی ایکشن کی صورت میں ایک بُرے چناؤ سے بچا جا سکے اور یہ بھی کہ شاید مستقبل کے دورِ حکومت کے لیے کم سخت پابندیاں لگائی جائیں۔

یہ ابھی دباؤ ہے کہ ابھی معاہدہ مکمل نہیں ہوا۔ تفصیلی طور پر معاہدے کی ڈرافٹنگ باقی ہے مگر بنیادی ڈھانچے پر سب فریقین رضامند ہیں اور یہ بھی ایک اہم نتیجہ ہے۔ ابھی یہ راحت اور خوشی کا موقع نہیں۔

کسی کو بھی اس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے یا طویل مدت تک اس کی خواہش کے لیے ایران کے رویے میں معنی خیز تبدیلی آگئی ہے۔

بحران ٹل گیا

اگر یہ معاہدہ طے پاگیا اور اس پر مکمل طور پر عملدرآمد ہوا 10 سے 15 سال تک ایران کا جوہری پروگرام رک جائے گا۔ ایران کیا کر رہا ہے یہ جاننا اس معاہدے کے چند اہم نکات کی رو سے بین الاقوامی معائنہ کاروں کے لیے ممکن ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کی ڈیڈ لائن میں توسیع بھی متعدد بار ہوئی

لیکن یہ معاہدہ مغربی ممالک کے ابتدا میں مقرر کیے جانے والے اس ہدف سے دور ہے جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا تھا۔ اس معاہدے نے بہت وقت لیا ہے اور اس عرصے میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔

اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو یہ معاہدہ ایران اور مغرب کے درمیان موجود اختلافات کو کم کرے گا۔

دیگر بہت سی سطحوں پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات بھی موجود ہیں۔ ان میں ایران کے شام، عراق، لبنان اور یمن میں اثر، خطے میں بڑھتی ہوئی طاقت، انسانی حقوق کے حوالے سے ایران کا ریکارڈ اور دہشت گردوں کی مبینہ معاونت کے الزامات وغیر ہ شامل ہیں۔

مذاکرات آسان نہیں رہے اور وہ مزید سخت ہوں گے لیکن معاہدہ سب کے لیے موافق دکھائی دے رہا ہے۔

ایرن کو پابندیوں سے بہت حد تک چھٹکارا ملے گا۔ تہران پر تنقید کرنے والوں نے اس کے جوہری امور پر بہت اہم حد تک پابندیاں لگائی ہیں۔

بحران کے شکار اس خطے میں اور بھی بہت کچھ ہورہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران 19000 میں سے اپنی 6104 سینٹری فیوجز مشینیں چلانے کی اجازت مل گئی ہے

ایران دولتِ اسلامیہ کے حلاف امریکہ کے ساتھ مل کر کوششیں کر رہا ہے۔ اسی طرح یمن کی جنگ میں وہ واضح طور پر ایک دوسرے کے ساتھ نہیں ہیں لیکن جوہری مذاکرات میں یہ معاملہ اثر انداز نہیں ہوا۔

متاثر کن تفصیلات

ان مذاکرات سے کیا توقع کی جارہی تھی معاہدہ طے پانے کے بعد اس کا اعلان سامنے آگیا۔ لیکن اس کے مقابلے میں ایران کے جوہری پروگرام کی رفتار کیا ہوگی اس کے لیے امریکی محکمہ خارجہ نے ایک طویل فہرست جسے اس نے ’مشترکہ اقدامات کے جامع پلان‘ قرار دیاگیا جاری کی۔

  • معاہدے کی رو سے ایران 19000 میں سے اپنی 6104 سینٹری فیوجز مشینیں چلانے کی اجازت مل گئی۔ ان میں سے 5000 ایسی ہوں گی جو یورینیم کی افزودگی کریں گی۔ یہ تمام مشینیں زیادہ جدید نہیں اور جو بھی ذخیرہ ہوگا وہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی زیرِ نگرانی ہوگا۔
  • ایران اپنے کم مقدار میں افزودہ حالت میں موجود یورینیم کے ذخیرے کو کم کرےگا جو کہ جوہری بم بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
  • ایران فردوع میں موجود اس زیرِ زمین سائٹ کو 15 سال کے لیے بند کر دے گا جہاں یورینیم کی افزودگی ہوتی ہے۔
  • معاہدے کے مطابق بین الاقوامی معائنہ کاروں کو نہ صرف ایران کی اہم جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی بلکہ وہ یورینیم کی کانوں اور کارخانوں کا معائنہ بھی کر سکیں گے۔
  • ایران پابند ہوگا کہ وہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ملک بھر میں مشکوک یا خفیہ جگہوں تک رسائی دے۔
  • اراک میں بھاری پانی کا ریکٹر ہے۔ یہ خدشہ ہے کہ ایران پلوٹونیم سے بھی بم بنا سکتا ہے تاہم اب ایران پلوٹونیم کو ہتھیار بنانے کی سطح تک استعمال میں نہیں لا سکے گا۔

مندرجہ بالا پابندیوں میں سے کچھ تو 10 سال کے لیے ہیں جبکہ چند کو 15 سال کے لیے لاگو کیا جا رہا ہے۔

اس کے بدلے میں ایران کو کیا ملے گا؟

ایران پر امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے عائد کردہ پابندیاں ختم کر دی جائیں گی تاہم اس کے لیے ابھی حتمی وقت اور طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا۔

ایران کو حقیقی معنوں میں مکمل طور پر تمام جوہری تنصیبات کو بند نہیں کرنا ہو گا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جب ایک بار پابندیاں ختم ہوجائیں گی تو پھر یہ ایران کی جوہری انڈسٹری کے لیے ایک بنیاد ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

باوجود اس کے کہ یہ تفصیلات متاثر کن ہیں اور انھوں نے جوہری ماہرین کو بھی قائل کر لیا ہے کہ ایران کو ایک طویل عرصے کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے پابند رکھیں گی۔

لیکن دوسری جانب یہ وقت ایران کے لیے کافی بھی نظر آتا ہے کہ اس میں وہ کوشش کر کے اس عرصے میں کافی مقدار میں افزودگی کر سکتا ہے ، بم بنا سکتا ہے اور ڈیل کو ختم کرسکتا ہے۔

اگرچہ معائنہ کاری کے لیے اہم شقیں بھی موجود ہیں تاہم اس سے بہت سے مخالفین قائل نہیں ہو سکے جیسے کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ عبوری معاہدہ ایک بہت بڑی تاریخی غلطی ہے۔

اب بھی بہت سارے سوالات باقی ہیں۔مثلاً ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں عالمی طاقتوں کا ردِعمل کیا ہوگا۔

کیا ایک بار پابندیاں ختم ہونے کے بعد دوبارہ لگ سکیں گی؟ اور یہ بھی کہ کس حد تک خلاف ورزی ہوگی تو اس پر ایکشن لیا جائے گا۔

لیکن اگر سب ہو تب بھی ایران ہی کو فائدہ ہوگا۔ وہ اپنے جوہری انفراسٹرکچر کو معاہدہ ختم ہونے کے بعد دوبارہ قائم کر سکے گا اور بڑھا سکے گا۔

پابندیوں سے چھٹکارا پانے کی صورت میں اسے اہم مدد ملے گی کیونکہ ان پابندیوں نے اسکی معیشت تباہ کیا ہے۔

اس وقت تو یہ ایک سفارتی جیت ہے۔ لیکن یہ ان بنیادی سوالات کا جواب نہیں جو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اٹھائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں