پیغمبرِ اسلام پر ایرانی فلم ریلیز کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پیغمبرِ اسلام پر بننے والی اس فلم پر تین کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں

ایران کے بین الاقوامی شہرت یافتہ فلم ساز اور ہدایت کار مجید مجیدی کی تاریخی فلم ’محمد - خدا کے پیغمبر‘ ایران اور دنیا کےدوسرے ملکوں میں ریلیز کے لیے تیار ہے۔

ایران میں بننے والی یہ اب تک کی سب سے مہنگی فلم ہے اور اسے مکمل کرنے میں کئی برس لگے ہیں۔

یہ فلم پیغمبرِ اسلام کی زندگی پر بنی ہے اور اسے تین حصوں میں مکمل کیا جائے گا۔

جو فلم ریلیز ہونی ہے وہ پہلا حصہ ہے اور اس میں پیغمبرِ اسلام کی پیدائش سے ان کے شام کے پہلے دورے تک کے واقعات کا احاطہ کیاگیا ہے جب ان کی عمر 12 برس تھی اور روایت کے مطابق راستے میں جب ایک عیسائی راہب نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک دن خدا کے نبی بنیں گے۔

فلم کی بیشتر شوٹنگ تہران سے کچھ دور واقع ایک پہاڑی علاقے میں کی گئی ہے جہاں چھٹی اور ساتویں صدی کے مکہ اور مدینہ کا ایک وسیع سیٹ تیار کیا گیا۔

مجیدی فلم کا کچھ حصہ بھارت میں شوٹ کرنا چاہتے تھے لیکن سابق منموہن سنگھ حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔ فلم کا کچھ حصہ جنوبی افریقہ میں فلماياگیا ہے۔ فلم میں سپیشل ایفکٹس کیمرے اور موسیقی کے لیے دنیا کے نامور ماہرین کی مدد لی گئی ہے ۔

اس فلم کو ایران کی سرکاری سرپرستی اور منظوری حاصل ہے۔ پیغمبرِ اسلام پر بننے والی اس فلم پر تین کروڑ ڈالر خرچ ہوئے ہیں۔

مجید مجیدی کا کہنا ہے کہ فلم بین الاقوامی سطح پر کوئی پیفام پہنچانے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ وہ اس فلم کے ذریعے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہےکہ انھوں نے سنی اور شیعہ دونوں مسلکوں کے علما سے صلاح و مشورے کے بعد متفقہ پہلوؤں کی بنیاد پر یہ فلم بنائی ہے اور اس کا مقصد اسلام کا اتحاد بھی ہے۔

اسلام میں بالخصوص سنی مسلک میں پیغمبرِ اسلام کی تصویر یا شبیہ پیش کرنے کی ممانعت رہی ہے۔ شیعہ مسلک کا تصور سنیّوں کے مقابلے نسبتاً اعتدال پسند رہا ہے۔

مجیدی نے اس فلم میں پیغمبرِ اسلام کےبچپن کا کردار ادا کرنے والے کا چہرہ نہیں دکھایا ہے۔ انہیں صرف پشت سے دکھایا گیا ہے اور واقعات کو پیش کرنےمیں دیگر کرداروں کی مدد لی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مجید مجیدی کا کہنا ہے کہ فلم بین الاقوامی سطح پر کوئی پیفام پہنچانے کا سب سے موثر ذریعہ ہے

مجیدی کی ان حساس کوششوں کے باوجود اس فلم کی شروعات سے قبل ہی سنیّوں کے سرکردہ مذہبی ادارے جامعہ الازہر نے اس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ یہ فلم بننے کی اجازت نہ دے ۔

قطر نے تو یہاں تک اعلان کر دیا کہ وہ خود ایک ارب ڈالرکی مالیت سے پیغمبرِ اسلام پر اپنی ایک فلم بنائے گا۔

سّنی آبادی والے بیشتر عرب ملکوں میں یہ فلم شاید ریلیز نہ ہو۔

اس فلم کی ریلیز پر بھارت اور پاکستان جبیسے ملکوں میں بھی مسلمانوں کے کچھ حلقوں کی طرف سے اعتراض کیے جانے کا پورا امکان ہے۔

بہت ممکن ہے کہ حکومت سے اس فلم پر پابندی لگائے جانے کا مطالبہ کیا جائے اوراگر ماضی کا ریکارڈ دیکھیں تو کوئی حیرانی نہیں ہو گی اگر حکومت بدامنی پھیلنے کے نام پر اس فلم کی نمائش پر پابندی بھی لگا دے۔

لیکن اس فلم کے خلاف احتجاج مظاہرہ یا اس فلم پر پابندی کا مطالبہ غلط ہو گا۔ اس فلم پر کسی تنازع کا کوئی سبب نہیں ہے کیونکہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب پیغمبروں پر فلم بنی ہو۔

فلم کے ڈائریکٹر مجیدی کا کہنا ہے کہ ’حضرت عیسٰی پر ڈھائی سو فلمیں بن چکی ہیں۔ حضرت موسیٰ پر سو سے زیادہ فلمیں ہیں، دوسرے پیغمبروں پر اسی سے زیادہ فلمیں بنی ہیں جبکہ ’دی مسیج‘ واحد فلم ہے جو پیغمبرِ اسلام پر بنی ہے اور وہ فلم اسلام کے بارے میں صرف جہاد اور تلوار کا تصور پیش کرتی ہے۔اس لیے دنیا کو پیغمبرِ اسلام سے روشناس کرانے کی یہ ان کی کوشش ہے۔‘

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے اس دور میں کتابوں، خیالات ، تقریروں اور فلموں پر پابندی بے معنی ہو چکی ہے۔

یہ صرف کسی ریاست یا گروپ کی اجتماعی ذہنیت اور تنگ نظری کی عکاس ہو سکتی ہے۔ کسی کتاب، تصور اور فلم سے لاتعلق ہو کر اسے مسترد کیا جا سکتا ہے یا پھر اسی شکل میں اس سے بہتر جواب دیا جا سکتا ہے۔

یہ فلم کسی بھی دوسری فلم کی طرح ایک فلم ہے اور ہر شخص کو اسے دیکھنے یا نہ دیکھنے کی آزادی حاصل ہے۔

اسی بارے میں