کشمیر میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارتی فوج کے مطابق حالیہ تیز بارشوں کی وجہ سے عبوری سرحد کے قریب نصب کئی بارودی سرنگیں کھسک کر کھیتوں کی طرف آگئی ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں تین عام شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق بارودی سرنگ پھٹنے کا واقعہ سنیچر کو پیرپنجال پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع راجوری ضلع میں لائن آف کنٹرول کے قریب پیش آیا۔

فوج کا کہنا ہے کہ ایل او سی سے 80 کلومیٹر دُور جانجھر گاؤں میں 42 سالہ شری رمانی، 38 سالہ مونی سنگھ اور 26 سالہ وجے کمار نامی تین مزدور کھیتوں میں جا رہے تھے کہ انھوں نے غلطی سے ایک بارودی سرنگ اُٹھا لی جو زوردار دھماکہ سے پھٹ گئی۔

اس واقعہ میں تینوں مزدور ہلاک ہوگئے جبکہ قریب ہی موجود ایک اور کسان شدید زخمی ہوگیا۔

فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ تیز بارشوں کی وجہ سے عبوری سرحد کے قریب نصب کئی بارودی سرنگیں کھسک کر کھیتوں کی طرف آگئی ہیں اور ان ہی میں سے ایک سرنگ کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔

انسانی حقوق کے مقامی ادارے بھارت اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول سرحد کے آر پار نصب کی گئیں ہزاروں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے کا مطالبہ کئی برسوں سے کر رہے ہیں۔

بارودی سرنگوں پر پابندی کے لیے ایک عالمی تنظیم نے کشمیری رضاکاروں کے اشتراک سے بھارت پاکستان اور کشمیر میں مہم بھی چلائی لیکن ابھی تک کشمیر کی ساڑھے سات سو کلومیٹر طویل ایل او سی سرحد کے آر پار لاکھوں ایکٹر زمین سرنگوں سے پاک نہیں کیا گیا۔

کولیشن آف سول سوسائٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ’ہم نے بھارتی حکومت سے رابطہ کیا، پھر ہم پاکستان گئے، جہاں ہم نے پاکستانی حکومت اور فوج سے رابطہ کیا۔ ہم نے کشمیر کی مسلح قیادت سے بھی بات کی۔ کشمیری مسلح لیڈروں نے تحریری طور یہ ضمانت دی کہ وہ اپنی کارروائیوں میں انسان کش بارودی سرنگوں کا استعمال نہیں کریں گے۔‘

خرم پرویز کے مطابق بھارت اور پاکستان کی حکومتوں نے انھیں مایوس کر دیا ہے تاہم گذشتہ سات برس سے مسلح شدت پسند معاہدے پر عمل کر رہے ہیں۔

خرم پرویز خود بھی ایک بارودی دھماکے میں اپنی ٹانگ کھو بیٹھے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے دھماکے سرحدی پٹیوں میں موجود کھیت کھلیانوں میں ہوتے ہیں اور ان حادثوں میں ہونے والی اموات کو پولیس درج نہیں کرتی۔ اس کی وجہ سے گذشتہ 25 سال میں ہونے والی ہلاکتوں کی صحیح تعداد بھی معلوم نہیں ہو پائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر میں حقوق انسانی کی تنظیمیں کئی سال سے باردوی سرنگیں ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہیں

قابل ذکر ہے کہ سنہ 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر مسلح حملے کے بعد بھارتی فوج نے لائن آف کنڑول پر ’آپریشن پراکرم‘ کے عنوان سے پاکستان مخالف مہم چلائی جس میں کوئی جنگ لڑے بغیر بھارتی فوج کے840 فوجی اہلکار مارے گئے۔ پاکستانی فوج کو بھی جانی نقصان ہوا۔ یہ سبھی ہلاکتیں ان ہی بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہوئیں، جو دونوں افواج نے سرحدی پٹی میں نصب کر رکھی ہیں۔

کشمیر میں ہر سال بارودی سرنگوں کے درجنوں حادثاتی دھماکے ہوتے ہیں۔ لیکن ابھی تک اس بارے میں سرکاری طور مرنے والوں کے بارے میں کوئی اعداد وشمار جاری نہیں کیا گیا۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے راجوری سے ملحقہ ضلع پونچھ میں 700 ایسے شہری ہیں جو ایسے ہی حادثوں کے دوران اپاہج ہو چکے ہیں۔

واضح رہے جنوبی ایشیا میں پاک۔افغان سرحد کے بعد سب سے زیادہ جنگ زدہ سرحد کشمیر کی لائن آف کنٹرول ہے۔ سنہ 2003 میں اُس وقت کے وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپائی اور ظفراللہ خان جمالی نے اس عبوری سرحد پر دونوں طرف سے جنگ بندی کا معاہدہ کیا، تاہم پچھلے 11 سال کے دوران اکثر اوقات یہ سرحد کشیدگی کا شکار رہی۔ سالہاسال سے اسی عبوری سرحد کے آس پاس مسلح شورش جاری ہے۔

بھارتی حکومت اکثر اوقات پاکستان پر الزام عائد کرتی ہے کہ وہ اپنے زیرانتظام کشمیر میں کشمیریوں کو مسلح کر کے بھارتی علاقوں میں داخل کرنے میں مدد کرتا ہے۔

اسی بارے میں