’پڑوس میں مسلمانوں کا رہنا پسند نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Chirantana Bhatt
Image caption مسمار کی گئی بستوں کا منظر جہاں کبھی سینکڑوں گھر آباد تھے

بھارت کی مغربی ریاست گجرات کے وڈودرا (بڑودہ) شہر میں ختم کی جانے والی دو کچی بستیاں 450 مسلم خاندانوں کے لیے مستقل پریشانی کا سبب بن گئیں ہیں۔

پانچ ماہ قبل وڈودرا کے کلیان نگر اور كماٹيپورا کی دو بستیوں کو ہٹانے سے وہاں رہنے والے کل 2500 سے زیادہ کنبے بے گھر ہو گئے تھے۔

بی بی سی ہندی کے لیے لکھنے والی صحافی چرنتنا بھٹ بتاتی ہیں کہ بے گھر خاندانوں کو وزیر اعلیٰ کے رہائشی منصوبے کے تحت قرعہ اندازی کی بنیاد پر گھر دیے گئے۔ بے گھر ہونے والے مسلم خاندانوں کو عارضی طور پر مانیجا ایکسٹینشن میں موجود گھروں میں بھیجا گیا۔

لیکن وہاں پہلے سے رہنے والوں نے بے گھر مسلم خاندانوں کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی کہ ’وہ یہ نہیں چاہتے کہ ان کے پڑوس میں مسلمان رہیں۔‘

اب عالم یہ ہے کہ بے گھر مسلمان خاندانوں میں کئی سڑک کنارے رہنے پر مجبور ہیں اور جنھیں چھت نصیب ہے ان کی حالت بھی کوئی بہت اچھی نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Chirantana Bhatt
Image caption شبانہ کا کہنا ہے کہ ایک بچے کے لیے باقی بچوں کو کہاں چھوڑیں

بعض جگہوں پر تو ایک ہی مکان میں کئی خاندان رہنے پر مجبور ہیں۔ بے گھر کیے جانے والے لوگوں کو گھر دینے کی ذمہ داری میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ہے لیکن قرعہ اندازی کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس معاملے میں دانستہ طور پر تاخیر کے الزام بھی لگائے جا رہے ہیں۔

بے گھر ہونے والوں میں ایک شبانہ ہیں جن کے تین بچوں میں سے ایک اپاہج ہے لیکن ابھی اس بچے کا علاج ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

شبانہ کہتی ہیں: ’اس کا علاج کروانا تھا، لیکن ابھی گھر ہی نہیں ہے۔ اسے لے کر ہسپتال جاؤں گی تو باقی بچے کہاں رہیں گے؟ ہم ابھی تو سڑک پر ہی سوتے ہیں۔‘

ایسے ہی جذبات کا اظہار وحیدہ نے بھی کیا۔ ان کے دو بچے ہیں جن کی تعلیم ان کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

وحیدہ کہتی ہیں: ’عارضی گھر دیے گئے لیکن وہاں بجلی، پانی کے کنکشن کاٹ کر ہمیں پریشان کیا جا رہا ہے تاکہ ہم وہاں نہ رہ سکیں۔ بچوں کا سکول چھوٹ جائے گا تو کیا کریں گے؟ نئے سکولوں میں داخلہ بھی جلدی نہیں ملے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Chirantana Bhatt
Image caption انسانی حقوق کے کارکن بندوق والا کا کہنا ہے کہ حکام نے کہا ہے کہ گھر سب کو ملے گا

آٹورکشہ چلا کر اپنے خاندان کی کفالت کرنے والے گلفام اور شاہ نور دیوان بھی گھر کا انتظام نہ ہونے سے پریشان ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ابھی ہمیں بہت دور بھیج دیا گیا ہے، پرانے گھر کے پاس کاروبار جمع جمایا تھا، لیکن اب بیوی بچوں کی فکر کریں یا کام کریں، سمجھ میں نہیں آتا۔‘

بے گھر کیے جانے والوں کی دوبارہ سےآبادکاری کے لیے کام کرنے والے انسانی حقوق کے کارکن جے ایس بندوق والا نے بی بی سی کو بتایا: ’جب سے بستیوں کو ہٹایا گیا ہے تب سے وہاں رہنے والے لوگوں کی روزی روٹی تقریبا بند ہو گئی۔ وجہ یہ ہے کہ انھیں جو مکان دیے گئے وہ اس علاقے سے سات سے 17 کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔‘

بندوق والا کہتے ہیں: ’كلالي جہاں500 مکان تیار ہیں وہاں انھیں گھر دینے کا انتظام نہیں کیا جا رہا ہے۔ وہ ہندو علاقہ ہے۔ زمین کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہاں دلِت (پسماندہ ہندو) یا مسلمان رہنے آئیں گے تو ان کے نئے ہاؤسنگ پروجیکٹ کی قیمتیں گر جائیں گی۔‘

اس کی سیاسی توجیہات بھی پیش کی جاتی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر ہندو علاقے میں مسلمانوں کو گھر دیے جائیں گے تو وہاں کے كارپوریٹرز کے ووٹ تقسیم ہو جائیں گے۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن کے میئر سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن وہ شہر میں نہیں تھے۔

اسی بارے میں