چین کے سکولوں میں جنسی تشدد کا خطرہ

Image caption اپنے بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھانے والے والدی سخت سزا کی مانگ کر رہے ہیں

پہلی نظر میں ارلیبان قصبہ کباڑ کا ڈھیر نظر آتا ہے لیکن چین کے ہبیئی صوبے کا یہ قصبہ کار کباڑ کی ری سائکلنگ کے لیے مختص ہے۔ یہاں موجود کسی بھی خالی جگہ پر خالی بوتلوں اور پلاسٹک کے ڈبوں کے انبار اور پہاڑ نظر آتے ہیں۔

اس کباڑ کے درمیان ایک رہائشی سکول بھی ہے جو کہ امیروں کے لیے تو نہیں بلکہ چین کے بہت سے دوسرے رہائشی سکولوں کی طرح مقامی کسانوں اور مہاجر مزدوروں کے بچے بچیوں کے لیے ہے۔

غریب لوگ اپنے بچوں کو یہاں اس امید پر بھیجتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرکے وہ اس غریبی اور گندگی سے نکل جائیں گے جو ان کا مقدر ہے۔

ژانگ خاندان نے اپنے نوجوان بیٹے کو وہاں تعلیم کے لیے روانہ کیا۔ مسٹر ژانگ نے کہا کہ’ہمیں بتایا گیا کہ یہ یہاں کے بہترین سکولوں میں سے ایک ہے۔ یہاں فوجی قسم کی ڈسپلین ہے اور اچھے اساتذہ ہیں۔‘

اب ان کا کہنا ہے کہ یہ بس خالی وعدے تھے۔

گذشتہ دسمبر میں سکول کے لی جیان نامی ایک استاد کو جیل بھیجا گیا کیونکہ اس نے ژانگ کے بیٹے کے علاوہ کئی دوسرے بچوں کا جنسی استحصال کیا تھا۔ ہم نے بچے کی شناخت کی خاطر خاندان کا نام بدل دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لی جیان نے بچوں کو اپنے گھر بلانے کا اعتراف کیا اور اسے تقریبا تین سال کی سزا ہوئی

لی جیان نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اس نے بچوں کو اپنے گھر آنے کے لیے مجبور کیا۔ عدالت میں یہ بات سامنے آئی کہ وہاں ان بچوں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے اور منھ بند کر دیا گیا۔ انھیں اذیتیں دی گئیں اور ان کا ریپ کیا گیا۔ لی جیان نے انھیں وہاں ان کی رہائش پر ہونے والے واقعات کا کسی سے ذکر کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکی دی۔

جوں جوں استحصال بڑھتا گیا بچے افسردگی کا شکار ہوتے گئے۔

اس بچے کی ماں نے کہا کہ ’وہ سکول جانے کے نام پر رونے لگتا تھا۔ پہلے تو ہمیں سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ میرے شوہر بہت غصے ہوتے۔ لیکن اب ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ ہمارا بچہ دکھوں میں مبتلا تھا۔‘

بالاخر اسی بچے نے پہلی بار بولنے کی ہمت کی۔ اس نے پھسپھساتے ہوئے کہا کہ ’حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے تھے اس لیے میں نے اپنے والدین کو بتا دیا۔ لیکن وہ سب کچھ دوبارہ یاد کرنے میرے لیے پریشان کن ہے۔‘

لی جیان سکول میں ڈسپلین برقرار رکھنے کا ذمہ دار استاد تھا۔ عدالت میں بچوں نے بتایا کہ کہ لی ایسے بچوں کو علیحدہ کرتا تھا جنھوں نے سکول کی صبح کی ڈرل میں غلطی کی ہو۔ وہ انھیں ’اکسٹر انسٹرکشن‘ کے لیے اپنے گھر لے جاتا تھا۔

Image caption وزارت تعلیم کے اعدادوشمار کے مطابق تقریبا تین کروڑ بچے گھر سے دور تعلیم حاصل کرتے ہیں

لی کو دو سال 10 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ چین میں 14 سال کی عمر سے بڑے بچوں کے ریپ کے متعلق کوئی قانون نہیں ہے۔ ریپ کا شکار طلبہ عدالت میں یہ ثابت نہیں کر سکے کہ 14 سال کی عمر سے قبل ان کا ریپ ہوا اس لیے عدالت نے لی جیان کو بچوں کو محصور رکھنے کے جرم پر سزا سنائی ہے۔

بچوں کے استحصال پر چین کے نرم قانون سے تنگ متاثرہ خاندانوں نے سخت سزا کی اپیل کی ہے۔ وہ لی جیان سے ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ بچوں کو مہنگی نفسیاتی کونسلنگ دی جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں رائج نظام نے بھی ان کے بیٹوں کو مایوس کیا۔

مسٹر ژانگ کہتے ہیں کہ جب انھوں نے پہلی بار پولیس میں شکایت کی تو پہلے تو پولیس نے اس پر توجہ ہی نہیں دی لیکن جب ٹیچر کا نام لیا گیا۔تو پولیس افسر نے کہا ’لی جیان! وہ ذلیل پھر سے وہی کر رہا۔‘ اس کا مطلب ہے کہ وہ اس کے بارے میں جانتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ سکول میں بھی دوسرے استادوں نے اسی طرح کے الزامات کو نظر انداز کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چین کے رہائشی سکولوں میں بند کمرے کے پیچھے کیا ہوتا ہے کسی کو شاید اس کا علم نہیں۔

وزارت تعلیم کے اعدادوشمار کے مطابق تقریبا تین کروڑ بچے گھر سے دور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

’سیو دا چلڈرن‘ کی وکالت کرنے والوں کا خیال ہے کہ چین کے بورڈنگ سکولوں میں بچوں کو ’زبردست خطرہ‘ لاحق ہے کیونکہ بچے والدین سے دور رہتے ہیں اور استاد کے ماضی کو جانچنے اور جنسی اور جسمانی تشدد کی شکایت کا کوئی نظام نہیں ہے۔

اسی بارے میں