پاکستانی سرحد کے قریب آٹھ ایرانی فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایران پاکستان پر مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے

ایرانی کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرحد کے قریب مسلح افراد کے ساتھ جھڑپ کے دوران آٹھ ایرانی سرحدی محافظ ہلاک ہو گئے ہیں۔تاہم پاکستان نے اس حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت پر ہوا ہے جب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف یمن کے معاملے پر بات چیت کے پاکستان آ رہے ہیں۔

’ایران اور پاکستان کی سرحد پر کوئی کشیدگی نہیں‘

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایرانی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے افراد پاکستان کی سرحد سے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں داخل ہوئے۔

ایرانی حکام کے مطابق مسلح افراد حملہ کرنے کے بعد واپس پاکستان فرار ہوگئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی۔

خیا ل رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات سرحدی کشیدگی کی وجہ سے تناؤ کا شکار رہے ہیں۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق سیستان صوبے کے نائب گورنر علی اصغر میرشکری کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والے حملے میں مسلح دہشت گردوں نے ایران کی سرحد میں داخل ہو کر سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔

صوبے کے نائب گورنر علی اصغر میر شکری کا کہنا تھا کہ حملہ آور راکٹ لانچروں سمیت جدید اسلحے سے لیس تھے۔

انھوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس حملے میں ملوث حملہ آوروں کو گرفتار کر کے ایران کے حوالے کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بدھ آٹھ اپریل کو مختصر دورے پر پاکستان پہنچ کر رہے ہیں

خیال رہے کہ یہ حملے ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب ایران کے وزیر خارجہ یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی عسکری کمان میں جاری آپریشن پر بات کرنے کے لیے پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف بدھ آٹھ اپریل کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ جواد ظریف یمن کی جنگ کے حوالے سے پاکستان کو ایران کے موقف سے آگاہ کریں گے اور انھیں اعتماد میں لیں گے۔

ایران کے صوبے سیستان اور پاکستان کے سرحدی صوبے بلوچستان میں ایرانی سکیورٹی اہلکاروں اور سمگلروں اور سنی باغی گروہوں کے درمیان کئی بار جھڑپیں ہو چکی ہیں لیکن یہ حملہ سنہ 2013 میں سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل کے حملے کے بعد سب سے بڑا حملہ ہے۔ سنی عسکریت پسند گروپ جیش العدل نے اس سے قبل 14 ایرانی سرحدی محافظوں کو ہلاک کیا تھا۔

ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی علاقوں پر شدت پسندوں نے کارروائیاں کی ہیں۔ ایران نے کہا تھا کہ پاکستان سرحدی علاقوں شدت پسندوں کے حملے روکنے کے لیے ایران کے ساتھ تعاون کرے۔

اسی بارے میں