26 ہزار شکایتیں، صرف 100 پر کارروائی ممکن

Image caption دوسری بار دہلی کا وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد کیجریوال نے پھر سے بدعنوانی کے خلاف ’ہیلپ لائن‘ شروع کی ہے

پرشانت بھوشن اور يوگیندر یادو کے ساتھ سیاسی تنازع کے بعد بھارتی دارالحکومت دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال اب عوام کی توجہ پھر اپنی حکومت اور اس کے کام کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں۔

آج کل دہلی کے ہر ایف ایم سٹیشن پر کیجریوال کا دہلی کو ’بدعنوانی سے پاک پانچ شہروں‘ میں شامل کرنے کا وعدہ دن میں 50 بار سنایا جا رہا ہے۔

سرکاری ہیلپ لائن پر روز ہزاروں فون کالز آ رہی ہیں اور لوگ اپنی شکایتیں درج کرا رہے ہیں مگر، ان ہزاروں میں سے کچھ ہی ایسي ہیں جن پر کارروائی کی گنجائش ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ لوگ رشوت مانگنے والوں کے خلاف صحیح ثبوت نہیں لا پا رہے ہیں اور بدعنوانی کے خلاف چلائی جانے والی اس مہم کا دائرہ بڑھانے کی بات بھی ہو رہی ہے۔

دوسری بار دہلی کا وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد کیجریوال نے پھر سے بدعنوانی کے خلاف ’ہیلپ لائن‘ شروع کی ہے جس پر رشوت مانگنے والوں کے خلاف کالز کا تانتا بندھ گیا ہے۔

دہلی حکومت کے ترجمان ناگیندر شرما کا کہنا ہے کہ 5 اپریل کو ’ہیلپ لائن‘ کے آغاز کے بعد سے اب تک 26 ہزار سے بھی زیادہ شکایتیں درج کروائی گئی ہیں۔

تاہم حکومت کے حساب سے ان 26 ہزار میں سے صرف تقریباً 100 شکایات ہی ’انٹی کرپشن بیورو‘ کو بھیجی جا سکیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 5 اپریل کو ’ہیلپ لائن‘ کے آغاز کے بعد سے اب تک 26 ہزار سے بھی زیادہ شکایتیں درج کروائی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق اتنی کم تعداد کی وجہ یہ ہے کہ شکایت کرنے والے ٹھوس ثبوت نہیں پیش کر پائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بیشتر شکایتیں ان محکموں سے متعلق ہیں جن کا عوام سے براہ راست ربط ہے اور ان میں پولیس، رجسٹري آفس اور میونسپل کارپوریشن وغیرہ شامل ہیں۔

دہلی حکومت کے محکمۂ نگرانی کے اہلکار امیتابھ جوشی کا کہنا ہے کہ غیر متوقع طور پر لوگ اس ہیلپ لائن پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی شکایتیں درج کرا رہے ہیں۔

’عاپ‘ والے کہہ رہے تھے کہ اب ہر شہری ’انسپکٹر‘ بن جائے گا مگر حکام کہتے ہیں کہ ہر کوئی ’انسپکٹر‘ نہیں بن سکتا کیونکہ ہر کوئی بدعنوان لوگوں کے خلاف ثبوت جمع کرنے میں مہارت نہیں رکھتا۔

امیتابھ جوشی کا کہنا ہے کہ حکومت اب بدعنوانی کے خلاف چلائي جانے والی مہم کا دائرہ بڑھا رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں:’یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر آدمی ہر وقت ثبوت جمع کرنے کے قابل نہیں ہو پاتا۔ اب اگر آپ سے کسی دفتر میں اچانک رشوت مانگی جاتی ہے تو آپ کی ریکارڈنگ کے لیے تیار نہیں ہوتے۔‘

جوشی کا کہنا ہے ایسے معاملات پر بھی کام کیا جائے گا جہاں شكايت کرنے والا ٹھوس ثبوت نہ پیش کر پایا ہو۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں اس کی شکایت قبول کر لی جائے گی اور ’انٹی کرپشن بیورو‘ کے افسران خود ثبوت اکٹھے کریں گے۔

مشرقی دہلی کے میور وہار میں ریڑھی پر کھانا فروخت کرنے والے سجيت کمار کا کہنا ہے کہ پچھلی بار جب عام آدمی پارٹی نے 49 دنوں کی حکومت بنائی تھی تو کرپشن میں کمی آئی تھی۔

سجيت کہتے ہیں، ’پولیس والوں نے ہم سے بھتہ لینا بند کر دیا تھا۔ حکومت کے ہٹنے کے بعد ہمیں پھر سے تنگ کیا جانے لگا۔ اب مہم پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ اس سے فائدہ ضرور ہوگا۔‘

وہیں کستوربا گاندھی مارگ پر ٹھیلا لگانے والے اوم پرکاش کو لگتا ہے کہ اب نہ تو بابو رشوت لیں گے اور نہ ہی کام کریں گے۔ ’پہلے تو پیسے لے کر کام کرتے تھے۔ اب ہمیں لٹکا کر رکھیں گے۔ کام نہ کرنے والوں پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔‘

امیتابھ جوشی کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر کام نہیں کرنے والے افسروں کو بھی بدعنوانی کے دائرے میں لایا جائے گا۔

اسی بارے میں