بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما کو پھانسی

تصویر کے کاپی رائٹ bengal pix
Image caption قمر الزامان کا شمار بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے تیسرے اہم ترین رہنما میں ہوتا تھا

بنگلہ دیش میں حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 1971 کی جنگی آزادی میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے پر جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما محمد قمرالزمان کو پھانسی دی دیدی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو دارالحکومت ڈھاکہ کی جیل میں قمرالزامان کو پھانسی دی گئی۔

بنگلہ دیش میں ایک خصوصی عدالت نے مئی سنہ 2013 میں انھیں سزائے موت سنائی تھی۔

62 سالہ قمر الزمان پر 120 غیر مسلح کسانوں کو ہلاک کرنے کے الزام میں سزائے موت دی گئی تھی اور گذشتہ ہفتے اٹارنی جنرل کی جانب سے اُن کی رحم کی اپیل مسترد ہونے کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد ہوا ہے۔

جماعت اسلامی کے نائب سیکریٹری قمرالزمان قمر الزامان کا شمار جماعت کے اہم رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ قمر الزامان سے پہلے جنگی جرائم کے جرم میں جماعت اسلامی کے ایک اور رہنما کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

دسمبر 2013 میں جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو بھی پھانسی دی گئی تھی۔

سنیچر کو قمرالزامان کی بیوی بیٹیوں سمیت خاندان کے 21 افراد نے جیل میں اُن سے آخری ملاقات کی۔ اس موقع کسی بھی طرح کے حالات سے نمٹنے کے لیے جیل کی اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔

قمر الزامان کا شمار بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے تیسرے اہم ترین رہنما میں ہوتا تھا۔

بنگلہ دیش میں سنہ 2010 سے دو مختلف ٹرائبیونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔

ان عدالتوں کی تشکیل وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔

2010 سے اب تک ان عدالتوں نے 13 افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حزبِ اختلاف کی پارٹی جماعتِ اسلامی ہے جو کہ بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالف رہی تھی۔

Image caption بنگلہ دیش میں عوامی سطح پر جنگی جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں

جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

ان عدالتی کارروائیوں کے ناقدین کا بھی یہی کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریقۂ کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

دوسری جانب برسرِ اقتدار سیاسی جماعت ’عوامی لیگ‘ کا کہنا ہے کہ ملک کے ماضی کو دفن کرنے کے لیے جنگی جرائم کی تفتیش ضروری ہے۔

سنہ 1971 میں نو ماہ تک جاری رہنے والی پاکستان سے علیحدگی کی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے ہیں۔

بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 30 لاکھ افراد مارے گئے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ تعداد حقیقت سے بہت زیادہ ہے اور نہ ہی ان اعداد و شمار کی کوئی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں جماعت اسلامی بھی بنگلہ دیش میں مذہبی جماعت کے رہنماؤں کو دی جانے والی سزاؤں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر چکی ہیں جبکہ حکومت نے بھی ان سزاؤں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں