’جعلی پولیس‘ مقابلے انڈیا میں بھی عام

مظاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ پولیس سمجھتی ہے کہ وہ کچھ بھی کر لے اسے نہیں سزا دی جا سکتی

صندل کی سرخ لکڑی ایک خوبصورت لکڑی ہے۔ اس میں بھی سب سے اچھی وہ ہوتی ہے جس کا رنگ گہرا قرمزی ہو اور دانوں سے بھرا ہو۔ اسے مشرق بعید میں فرنیچر کے لیے بہت پسند کیا جاتا ہے۔

لیکن انڈیا میں اسے ’خون کی لکڑی‘ کہا جا رہا ہے۔

یہ اس لیے ہے کہ گزشتہ ہفتے پولیس نے ایک مقابلے میں صندل کے 20 مبینہ سمگلروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

سرخ صندل ایک بڑی نایاب لکڑی ہے۔ یہ صرف جنوبی انڈیا کے چند جنگلوں میں اگتی ہے۔ وہاں درخت کاٹنا اور لکڑی بیچنا غیر قانونی ہے اور اسی لیے سرخ صندل کی لکڑی لاکھوں روپے میں فروخت ہوتی ہے۔

اس کی وجہ سے اس میں سمگلنگ بڑھ گئی ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق صندل کی لکڑی کی سمگلنگ روکنے کے لیے بنائی گئی پولیس کی ٹاسک فورس کی مڈبھیڑ جنوبی انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کے گنے جنگلوں میں 100 مبینہ سمگلروں سے ہو گئی۔

ان کے مطابق مبینہ سمگلروں نے ان پر پتھر پھینکنے شروع کر دیے۔

آندھرا پردیش کی پولیس کے سربراہ جے وی رامودو کا کہنا ہے کہ پولیس نے اپنے دفاع میں ان پر گولی چلائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہلاک کیے جانے والے کچھ افراد کے متعلق تو یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ وہ جنگل میں تھے ہی نہیں۔ انھیں بعد میں وہاں لایا گیا

چند گھنٹوں میں صحافی، حزبِ اختلاف کے رہنما اور انسانی حقوق کے گروہوں نے، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی شامل ہے، پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھانے شروع کر دیے۔

کیوں اتنے زیادہ لوگوں کو سر یا جسم میں، یا پیچھے سے گولیاں ماری گئیں؟ ایسا کیوں لگتا ہے کہ لاشوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا گیا؟ مرنے والے کیوں دو مختلف جگہوں پر دو مختلف گروہوں میں ہیں؟

ایک مقامی شخص نے دعویٰ کیا کہ ہلاک کیے جانے والوں میں سے تو کئی ایک جنگل میں موجود ہی نہیں تھے۔ اس نے کہا کہ انھیں پولیس کی ایک بس میں وہاں لایا گیا تھا۔

اس کے فوری بعد لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ ہلاکتیں ’پولیس مقابلے‘ کی نشاندہی کرتی ہیں جس کی پولیس تردید کرتی رہتی ہے۔

ہر انڈین کو پتا ہے کہ پولیس مقابلہ یا جعلی پولیس مقابلہ کیا ہے: یہ ایک جعلی لڑائی ہے جس میں ہمیشہ مجرم مر جاتے ہیں اور پولیس والوں کو کچھ نہیں ہوتا۔

اور جعلی پولیس مقابلوں کے الزامات حیران کن طور پر عام ہیں۔

صندل کی مبینہ سمگلروں کی ہلاکت کے علاوہ ایک اور کہانی انڈین اخبارات کی زینت بنی۔

رپورٹ کے مطابق دو پولیس والوں کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار پانچ افراد کو جنوبی انڈیا کے شہر حیدرآباد ایک عدالت میں لے جاتے ہوئے ہلاک کر دیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک ملزم نے پولیس والے بندوق چھیننے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں باقی پولیس والوں نے اپنے دفاع میں گولی چلائی۔

جبکہ ہلاک ہونے والے ملزمان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ انھیں شک ہے کہ یہ واقع بھی جان بوجھ کر گھڑا گیا ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس والوں کے خلاف قتل کا مقدمہ چلایا جائے۔

اخبار فائنانشیل ٹائمز کے صحافی ایڈورڈ لوس نے اپنی کتاب ’ان سپائٹ آف دی گاڈز‘ میں جعلی پولیس مقابلوں پر کافی تحقیق کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ممبئی میں ایک پولیس آفیسر سے ملے جس نے دعویٰ کیا کہ وہ 50 پولیس مقابلوں شریک ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے کہا کہ وہ ایک ایسے پولیس والے کو بھی جانتا ہے جو 80 پولیس مقابلے کر چکا ہے۔

پولیس مقابلے کسی حد تک انڈیا کے سست اور کم فعال کرمنل جسٹس سسٹم کا ردِ عمل بھی ہیں۔

پولیس اکثر سمجھتی ہے کہ مقدمات میں تاخیر اور عینی شاہدین کے جارحانہ رویوں کی وجہ مقدمات ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ بھی عام ہے کہ اپنا دفاع کرنے والے اکثر اپنی آزادی خرید ہی لیتے ہیں۔

لیکن قانون اپنے ہاتھوں میں لینے کا مطلب اس سے بھی برا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پولیس والے سمجھتے ہیں کہ انھیں سزا سے بریت ہے اور وہ جب چاہے قتل کر دیں گے ان کو کوئی نہیں پکڑے گا۔