’مسلمانوں اور عیسائیوں کی زبردستی نس بندی ہونی چاہیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ sanjayraut
Image caption سنجے راؤت نے وضاحت کی کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں ہے، بلکہ ان کی پارٹی کی رائے ہے

بھارت میں ہندو تنظیم شیو سینا کے رہنما کے مسلمانوں کو حق رائے دہی کے بیان پر ابھی تنقید کا سلسلہ جاری تھا کہ ہندو مہا سبھا کی ایک رہنما سادھوی دیوا ٹھاکر نے مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی کم کرنے کے لیے ان کی زبردستی نس بندی کی بات کی ہے۔

شیوسینا کے رہنما اور ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں مہاراشٹرکی نمائندگی کرنے والے ایم پی سنجے راؤت نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو پانچ سال کے لیے ووٹ دینے کے حق سے دست بردار ہو جانا چاہیے۔

اتوار کو شیو سینا کے نظریات کی ترجمانی کرنے والے اخبار ’سامنا‘ میں انھوں نے یہ باتیں لکھیں جن پر کئی حلقے سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

سادھوی آل انڈیا ہندو مہا سبھا کی نائب صدر ہیں۔ انڈیا ٹوڈے کے مطابق انھوں نے کہا: ’دن بہ دن مسلمانوں اور عیسائیوں کی آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے مرکز کو ایمرجنسی نافذ کرکے مسلمانوں اور عیسیائیوں کی زبردستی نس بندی کرنی ہوگي تاکہ ان کی تعداد میں اضافہ نہ ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنجے راؤت کا مضمون شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں اتوار کو شائع ہوا

انھوں نے ہندوؤں کو زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب بھی دی تاکہ دنیا پر ان کے اثرات ہوں اس کے علاوہ انھوں نے مسجدوں اور گرجا گھروں میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں رکھنے کی بات بھی کہی۔

شیو سینا رہمنا راؤت نے اپنے مضمون میں مسلمانوں کی پسماندگی کے لیے ’ووٹ بینک کی سیاست‘ کو ذمے دار ٹھہرایا اور لکھا کہ اس کے لیے بعض ’سخت فیصلے‘ لینے کی ضرورت ہے۔

بی بی سی سے بات چیت میں سنجے راؤت نے کہا: ’بالا صاحب (ٹھاکرے) نے کہا تھا کہ کچھ وقت کے لیے ان کے ووٹ دینے کا حق ہم ختم کریں تو ان کے ووٹ بینک کی سیاست کرنے والے رہنماؤں کی دکان بند ہو جائے گی۔‘

انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ’مسلمانوں کے ووٹوں کا ذمہ اویسی (مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما) نے لیا ہے پہلے یہ ٹھیکہ دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام نے لیا تھا، بعد میں ملّا ملائم (اترپردیش کے سماجوادی پارٹی رہنما ملائم سنگھ یادو) نے لے لیا تھا۔‘

انھوں نے مجلس اتحادالمسلمین کی سخت تنقید کی اور اویسی برادران کو ’سنپولے‘ اور پارٹی کو ’سانپ کا بل‘ قرار دیا۔

شیوسینا لیڈر نے بھی اپنے مضمون میں مسلمانوں کی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا کہ ’یہ ملک آئندہ 50 برسوں میں اسلامی ملک بن جائے گا، اویسی کا خواب پاکستان بنانا ہے اور وہ آندھراآ کر اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption سادھوی دیوا سے قبل بھارت میں وفاقی وزیر سادھوری نرنجن جیوتی کا متنازع بیان ’رامزادوں کی حکومت چاہیے یا ۔۔۔۔زادوں کی؟‘ آیا تھا

انھوں نے تیلنگانہ اسمبلی کے رکن اکبرالدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا: ’اویسی ادھو (شیوسینا صدر ادھو ٹھاکرے) کو حیدرآباد آنے کے لیے چیلنج کرتے ہیں لیکن ان سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ حیدرآباد کسی لاہور، کراچی اور پشاور میں تو نہیں ہے وہ ہندوستان میں ہے۔ مراٹھوں کا پرچم سرحد پار پاکستان اور افغانستان کے قندھار تک لہرایا تھا۔‘

کانگریس نے راؤت کے بیان کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق کانگریس رہنما ابھیشیک سنگھوی نے کہا کہ ’ایسے بیانات سننا قابل نفرت ہے۔ ہم ایک جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں کسی طالبانی ملک میں نہیں۔‘

کانگریس لیڈر سندیپ دکشت نے میڈیا سے بات چیت میں کہا: ’یہ غیر آئینی ہے۔ اس پر کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کا مقصد پورے ملک کے ماحول کو فرقہ وارانہ بنانا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Press Trust of India
Image caption اس سے قبل بی جے پی لیڈر ساکشی مہاراج نے ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی تھی اور مدارس کو ملک دشمن قرار دیا تھا

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے ان بیانات کو ’قانون کی خلاف ورزی‘ سے تعبیر کیا۔

دہلی اسمبلی میں برسراقتدار عام آدمی پارٹی نے سنجے راؤت کی گرفتاری کے ساتھ شیوسینا کی پارٹی کا ریجسٹریشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سنجے راؤت نے وضاحت کی کہ یہ ان کی ذاتی رائے نہیں ہے، بلکہ ان کی پارٹی کی رائے ہے۔

ادھر دہلی میں ایک وکیل شہزاد پوناوالا نے قومی اقلیتی کمیشن اور الیکشن کمیشن میں راؤت کے اس بیان کی شکایت کی ہے۔

اسی بارے میں