مسلح کمانڈر کا بھائی قتل، کشمیر پھر کشیدہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں سات لاکھ کے قریب فوج اور سکیورٹی فورسز کے دستے تعینات ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی قصبے ترال میں گزشتہ دو روز قبل خالد مظفر نامی نوجوان کی ہلاکت بعد شروع ہونے والا مظاہروں کا سلسلہ تاحال جاری ہیں۔

بھارتی فوج کا دعوی ہے کہ پیر کی شام ایک مسلح تصادم کے دوران ایک مسلح شدت پسند کو ہلاک کیا گیا۔

لیکن ترال میں شدید عوامی ردعمل کے بعد فوجی ترجمان لیفٹنٹ کرنل این این جوشی نے بتایا کہ ’خالد دراصل حزب المجاہدین کے مطلوب کمانڈر برہان مظفر کا بھائی ہے جو تین ساتھیوں سمیت جنگل میں چھپے شدت پسندوں کے لیے کھانا لے جارہا تھا۔ وہ حزب المجاہدین کا بالائے زمین کارکن ہے۔‘

پولیس کے سربراہ سید جاوید مجتبٰی گیلانی نے بھی اس بات کی تصدیق کی اور کہا ہے کہ باقی تین نوجوانوں پرویز بٹ ، عادل پیر اور وسیم تراگ پولیس حراست میں ہیں۔

منگل کو ترال میں ہزاروں لوگوں نے خالد کے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ جنازہ کے بعد شدید مظاہرے کیے گئے اور مظاہرین اور پولیس کے مابین تصادم ہوئے۔ پولیس کے سربراہ مسٹر گیلانی نے بتایا کہ تصادموں میں درجن سے زائد شہری زخمی ہوگئے جن میں سے ایک نوجوان کی حالت تشویشناک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ آپریشن کی جگہ سے ایک اور لاش ملی ہے جو مسلح شدت پسند یونس گنائی کی ہے۔

خالد مظفر کے والد مظفروانی نے یہ اعتراف کرلیا ہے کہ ان کا دوسرا بیٹا برہان حزب المجاہدین کا ایک مطلوب کمانڈر ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ خالد کا مسلح شدت پسندوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ’پورا گاوں گواہی دے رہا ہے کہ خالد اور اس کے دوست کولڈ ڈرنکس اور چپس لے کر تفریح کے لیے پہاڑ کی طرف جا رہے تھے۔ فوج اور حکومت جھوٹ بولتے ہیں۔ میرے بیٹے کے جسم پر گولی کا ایک نشان بھی نہیں ہے۔ انہیں اذیتیں دے کر قتل کیا گیا ہے۔ خالد کے سر اور ناک کی ہڈیاں مسمار کی گئیں ہِیں اور ان کی کلائیوں پر رسی کے نشان ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ لاش کو طویل مسافت تک گھسیٹا گیا ہے۔‘

اس ہلاکت کے خلاف ترال اور ملحقہ قصبوں میں زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ پولیس کے سربراہ جاوید گیلانی نے بتایا کہ پتھراو اور مظاہروں کے دوران لوگوں نے ایک نیم فوجی اہلکار کی بندوق بھی چھین لی لیکن فورسز نے نہایت ضبط سے کام لیا۔

پولیس نے متعدد علیحدگی پسند رہنماوں کو ترال جاتے ہوئے گرفتار کرلیا۔ اس دوران سید علی گیلانی ، میرواعظ عمرفاروق، یاسین ملک، شبیر احمد شاہ اور دوسرے علیحدگی پسند رہنماوں نے اس ہلاکت کے خلاف کل جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ مسٹر گیلانی نے جمعہ کو وادی بھر سے لوگوں کو ترال پہنچنے کے لیے کہا ہے جہاں وہ احتجاج کی قیادت کرینگے۔ میرواعظ عمرفاروق کی سربراہی والی حریت کانفرنس نے بھارت کے قومی انسانی حقوق کمیشن میں اس ہلاکت کے خلاف درخواست داخل کی ہے۔

علیحدگی پسندوں نے الگ الگ بیانات میں کہا ہے کہ کشمیر میں فوج کی موجودگی بجائے خود ایک بہت بڑا تنازعہ ہے ۔ بیانات میں کہا گیا کہ لامحدود قانونی اختیارات کے ساتھ فوج کی موجودگی جب تک قائم ہے امن کے تمام دعوے محض خود فریبی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں گزشتہ برس ہوئے انتخابات کے بعد غیر واضح نتائج سامنے آئے تو حکومت سازی کئی ماہ تک موخر ہوگئی۔ بالآخر مقامی جماعت پی ڈی پی نے بھارت کی حکمران بی جے پی کےساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ کرلیا۔ چھ ہفتے پرانی اس حکومت کے دور اقتدار میں عام شہری کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

کشمیر میں ترال قصبہ مسلح شدت پسندی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ برف سے ڈھکی پہاڑی چوٹیوں ، میٹھے پانی کے چشموں اور گھنے جنگلات کے لیے مشہور ترال قصبہ کے تمام بیاسی دیہات میں لوگوں کو شکایت ہے کہ انہیں فوج اور پولیس حراساں کرتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خالد کے بھائی برہان مظفر نے پندرہ برس کی عمر میں مسلح گروپ حزب المجاہدین میں شمولیت کرلی تھی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کے نوجوان اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ظلم و زیادتیوں کے باعث مسلح مزاحمت پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔

اسی بارے میں