جنوبی ایشیا میں بڑھتا ہوا جوہری تناؤ

یومِ پاکستان پریڈ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 23 مارچ 2015 کو ہونے والی پریڈ میں پاکستان نے شاہین سوم میزائل کی نمائش کی تھی

ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو جتنا وقت اور توجہ دی جا رہی ہے اور اس کے لیے جتنی کوششیں کی جا رہی ہیں اس نے نادانستہ طور پر دنیا کے دوسرے ممالک میں جوہری پھیلاؤ کے خطرات کو دھندلا کر دیا ہے۔

جنوبی ایشیا غیر مستحکم خطہ ہے، فوجی اور جوہری رقابت کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں جوہری اسلحے کی دوڑ کے خوف سے ادھر ابھی اس طرح دھیان نہیں دیا جا رہا جس کی ضرورت ہے۔

مبصرین کے مطابق دنیا کے اس خطے میں انڈیا، پاکستان اور چین (جو کہ تکنیکی طور پر جنوبی ایشیا کا حصہ نہیں ہے لیکن اس کی سرحدیں انڈیا اور پاکستان سے ملتی ہیں) تیزی سے ایک دوسرے سے جوہری سبقت لے جانے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ خطرناک تو ہے ہی لیکن اس خطے میں ممالک کے درمیان تاریخی دشمنیوں اور شکوک کی وجہ سے یہ معاملہ اور بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

پاکستان کو ہی لے لیں۔ یہ ملک اقتصادی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے لیکن پھر بھی یہ انڈیا کے ساتھ فوجی مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔ خیال ہے کہ یہ دنیا میں تیزی سے جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ جمع کرنے والے ممالک کی صف میں ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اس نے گذشتہ دس برسوں میں اپنا جنگی ہتھیاروں کا ذخیرہ تین گنا بڑھا لیا ہے۔

پاکستان کی مقتدرہ کے مطابق جوہری طاقت سیاسی اور فوجی حکمتِ عملی کے لیے ضروری ہے، اور بھارت کے سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ کو کم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ پاکستان کا کوئی سرکاری جوہری نظریہ نہیں ہے، لیکن سرکاری دستاویز میں ’محدود‘ کرنے اور ’دوسرے کو باز رکھنے‘ کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔

پاکستان کی حکومت نے حال ہی میں چین سے آٹھ آبدوزیں خریدنے کی منظوری دی ہے۔ ابھی تک یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ کیا ان میں یہ صلاحیت ہے کہ انھیں جوہری میزائلوں سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ جو کہ اربوں ڈالر کا بتایا جا رہا ہے، چین کے اسلحے کے سب سے بڑے معاہدوں میں سے ایک ہے۔ اس سے بحرِ ہند میں بھی فوجی برتری کی جنگ تیزی ہو جانے کا خدشہ ہے۔

اس معاہدے سے لڑائی اور رقابت کے ایک اور پہلو پر روشنی پڑتی ہے۔ چین ہمیشہ سے ہی پاکستان کو اسلحہ فروخت کرنے والا سب سے اہم ملک رہا ہے۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان کی اسلحے کی آدھی درآمد چین سے ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین نے پاکستان کو آٹھ آبدوزیں فروخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے

پاکستان اور چین کے کئی دہائیوں سے تعلقات قریبی ہیں جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں بھارت پر بھروسہ نہیں کرتے۔

اطلاعات کے مطابق حال ہی میں پاکستان نے ایک ایسے میزائل کا تجربہ کیا ہے جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس پہلے ہی درمیانے درجے پر مار کرنے والا شاہین سوم میزائل ہے جس کی حد 1,700 میل ہے اور جس کی زد میں بھارت کے کئی شہر آتے ہیں۔

نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والے ایک حالیہ مضمون کے مطابق پاکستان کم فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں بناتا رہتا ہے جن کی زد میں بھی انڈیا کے کئی شہر آتے ہیں۔

کسی کو بھی دونوں ممالک کے درمیان رقابت کو کم نہیں سمجھنا چاہیے جو آزادی حاصل کرنے کے بعد سے تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں۔

کئی مبصرین جنوبی ایشیا میں جاری جوہری مقابلے کو خطے کے لیے بری خبر سمجھتے ہیں جو کہ پہلے ہی بہت سے مسائل کا شکار ہے۔

مبصرین کے مطابق بھارت کے پاس اس وقت اندازاً 110 جوہری ہتھیار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ اگرچہ اپنے جوہری پروگرام کو وسیع کرتا جا رہا ہے لیکن اس کی رفتار تیز نہیں ہے۔ اس کی حکمتِ عملی ملی جلی ہے جس میں نزدیک تک مار کرنے والے اور دور تک مار کرنے والےبیلسٹک میزائل، جوہری آبدوزیں اور کروز میزائل شامل ہیں۔ اس نے اپنی پہلا جوہری تجربہ 1974 میں کیا تھا۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں انڈیا کے جوہری ہتھیار ’پہلے استعمال نہ کرنے‘ کے نظریے کی تصدیق کی ہے۔ سکیورٹی انڈیا کی جوہری حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہے۔ چین کی جوہری طاقت انڈیا کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اس کے پاس زیادہ جدید جنگی اسلحہ ہے اور اس کے پاس فوج بھی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ چین اور پاکستان کے روایتی قریبی تعلقات بھی اس کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی نے حال ہی میں انڈیا کی ’نو فرسٹ یوز پالیسی‘ کی تصدیق کی ہے

کوریائی جنگ کے بعد 1950 میں چین کے جوہری عزائم سامنے آئے تھے اور خیال ہے کہ اس نے 1964 میں اپنے پہلا جوہری تجربہ کیا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں اس کی جوہری صلاحیت بڑھتی جائے گی۔

چین ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ اس کی ’پہلے حملہ نہ کرنے‘ کی پالیسی مدافعانہ ہے۔ چین نے ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کیے ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ وہ جوہری ہتھیاروں کے تجربات سے متعلق سی ٹی بی ٹی کے معاہدے پر بھی دستخط کر چکا ہے۔

امریکہ اور روس کے پاس ابھی بھی دنیا کے 90 فیصد سے زیادہ جوہری ہتھیار ہیں لیکن جنوبی ایشیا کے متعلق جس کے تین ممالک جوہری طاقتیں ہیں، تشویش بڑھتی جا رہی ہے اور آنے والے مہینوں میں شاید اس پر زیادہ توجہ مرکوز کی جائے۔

اسی بارے میں