چین میں ترقی کی رفتار گذشتہ 15 سال میں سب سے کم

تصویر کے کاپی رائٹ XINHUA
Image caption چین کی معیشت پر فیکٹریوں کی زیادہ صلاحیت، بڑی مقدار میں مقامی قرضوں اور پراپرٹی مارکیٹ میں آنے والی کساد بازاری کا اثر پڑا ہے

چین کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی اقتصادی ترقی کی شرح گذشتہ چھ سالوں میں سب سے کم سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران چین کی معیشت کی شرحِ نمو 7.3 فیصد رہی۔

یہ سنہ 2009 میں آنے والی عالمی اقتصادی کساد بازاری کے بعد اقتصادی ترقی کی سب سے کم شرح ہے، جبکہ ترقی کی رفتار کے لحاظ سے یہ سنہ 1990 کے بعد سے سب سے کم ہے۔

گذشتہ سال معاشی ترقی 7.4 فی صد رہی تھی جو کہ گذشتہ 15 سال میں پہلی بار سرکاری ہدف 7.5 فی صد سے کم رہی۔

اس کے باوجود تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ چینی معیشت نے عالمی کساد بازاری کا توقع سے بڑھ کر مقابلہ کیا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ چین کی رواں معاشی سست رفتاری اور پراپرٹی کے میدان میں سست روی کے نتیجے میں چین کے مرکزی بینک کی جانب سے مزید سہولیات دیے جانے کا اشارہ ملتا ہے۔

Image caption چین کی فیکٹریوں کی زیادہ پیداواری صلاحیت کو بھی سست روی کے اسباب میں شمار کیا جا رہا ہے

فروری میں پیپلز بینک آف چائنا نے غیر متوقع طور پر سود کی شرح میں کمی کی تھی جو گذشتہ نومبر کے بعد دوسری کٹوتی تھی۔

اب چین کی حکومت سست لیکن طویل مدت تک قائم رہنے والی معاشی ترقی پر زور دیتی نظر آ رہی ہے۔

چین کے وزیر اعظم نے حال ہی میں ملکی معیشت پر اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں بہتری کی بہت گنجائش ہے لیکن ملک کو بڑی مشکلات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین پر فیکٹریوں کی زیادہ صلاحیت، بڑی مقدار میں مقامی قرضوں اور پراپرٹی مارکیٹ میں آنے والی کساد بازاری کا اثر پڑا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تازہ صنعتی پیداوار کے اعداد و شمار بھی تشویش کا باعث ہیں جو مارچ میں کم ہو کر 5.9 فیصد کی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Xinhua
Image caption چینی وزیر اعظم نے گذشتہ سال عوام کو ترقی کی کم رفتار کے لیے تیار رہنے کی بات کی تھی

چین کا سرکاری میڈیا عوام کو سست رفتاری کے ساتھ ہونے والے اقتصادی ترقی کے لیے تیار رہنے کا مشورہ دیتا ہوا نظر آ رہا ہے۔’'نیو نارمل‘ ترقی کی شرح کی بات سب سے پہلے چینی صدر نے گذشتہ سال مئی میں کی تھی جو اب میڈیا میں بہت مقبول ہے۔

چینی میڈیا میں ان رہنماؤں کے بیانات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے جو کم شرح کی وکالت کرتے ہیں۔ چینی میڈیا اقتصادی سست روی سے متعلق خبروں کو پیش کرنے میں انتہائی محتاط نظر آ رہا ہے۔ میڈیا کا زور زیادہ اس بات پر ہے کہ سست ترقی کی شرح سے گھریلو معیشت میں بہتری آئے گی۔

اسی بارے میں