شاپنگ آن لائن، ڈیلیوری ڈبہ والوں سے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈبے والے کئی دہائیوں سے ایک خاص طرح کی کوڈنگ سسٹم کا استعمال کرتے آئے ہیں جس میں رنگوں، اعداد، حروف اور علامات کا استعمال کیا جاتا ہے

بھارت میں سامان کی آن لائن فروخت کی سب سے بڑی کمپنی فلپ كارٹ نے اب ممبئی میں سامان کی ترسیل کے لیے شہر کے مشہور ڈبہ والوں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ممبئی کے یہ ڈبہ والے اپنے گاہکوں کے گھر سے گرما گرم کھانا ان کے دفاتر اور سکولوں تک پہنچاتے ہیں۔

بھارت کے سب سے بڑے تجارتی مرکز کے یہ ڈبے والے روزانہ تقریباً دو لاکھ لنچ باكس ممبئی کے مختلف علاقوں میں اپنے گاہکوں تک پہنچاتے ہیں اور فلپ كارٹ کے خیال میں ان کی اس مہارت کو استعمال میں لاتے ہوئے وہ اپنے’ڈلیوری سسٹم‘ کو زیادہ بہتر بنا سکتی ہے۔

بھارت میں آن لائن شاپنگ کی مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے اور خیال ہے کہ سنہ 2018 تک اس کا حجم 16 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

ڈبے والے کئی دہائیوں سے ایک خاص طرح کی کوڈنگ سسٹم کا استعمال کرتے آئے ہیں جس میں رنگوں، اعداد، حروف اور علامات کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کے اس نظام کی تعریف ہارورڈ یونیورسٹی تک نے کی ہے اور اسے درست ڈلیوری کے لیے ’سکس سگما لیول‘ دیا ہے یعنی ڈبے والوں سے ساٹھ لاکھ ٹفنز کی ڈلیوری میں صرف ایک غلطی ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

فلپ كارٹ کے لاسٹ مائل ڈلیوری کے سینئر ڈائریکٹر نیرج اگروال کہتے ہیں ’ڈبے والے ممبئی شہر کا سب سے قابل اعتماد برانڈ ہیں۔ ان کا انوکھا ڈلیوری سسٹم بہت آرام دہ اور قابل اعتماد ہے، جو وقت کے معیار پر مشکل سے مشکل حالات میں بھی کھرا اترا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Flipkart
Image caption سنہ 2007 میں کام کا آغاز کرنے والے فلپ کارٹ کمپنی کے بھارت میں تین کروڑ رجسٹرڈ صارف ہیں مگر اب اسے مسابقت کا سامنا ہے

گاہکوں کے گھر لنچ باكس لینے کے لیے جانے والے ڈبے والوں کو فلپ كارٹ کے مرکز سے سامان کی ترسیل کی ذمہ داری بھی سونپی جائے گی۔

ساتھ ہی موجودہ پیپر ٹریکنگ سسٹم کی جگہ ایپس اور ويری ایبل ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی منصوبہ ہے۔

دوسری آن لائن کمپنیوں کی طرح فلپ كارٹ بھی گاہکوں کو کیش آن ڈلیوری (سامان ملنے پر پیسہ دینے) کی سہولت دیتا ہے لیکن ڈبہ والے آغاز میں صرف انھی لوگوں کا سامان پہنچائیں گے جنہوں نے رقم کی ادائیگی پہلے ہی کر دی ہوگی۔

ڈبہ والوں سے اس ڈیل کو کمپنی کے کاروبار کو بڑھانے کی نئی کوششوں کو طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سنہ 2007 میں کام کا آغاز کرنے والے فلپ کارٹ کمپنی کے بھارت میں تین کروڑ رجسٹرڈ صارف ہیں مگر اب اسے مسابقت کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FLIPKART
Image caption امریکہ اور یورپ کے برعکس بھارت میں زیادہ تر گاہک آن لائن خریداری کے لیے کمپیوٹر کے بجائے موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں

امریکی آن لائن کمپنی ایمیزون نے اپنے بھارتی ایڈیشن میں تقریباً دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ بھارتی کمپنی سنیپ ڈيل بھی تیزی سے ابھرتی ہوئی حریف کمپنی ہے۔

یہ تینوں کمپنیاں براہ راست سامان بیچنے کے بجائے آن لائن بازار کے طور پر کام کرتی ہیں، کیونکہ بھارتی قانون ای کامرس کی ویب سائٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دیتا۔

یہ تینوں کمپنیاں فی الحال تو خسارے میں چل رہی ہیں کیونکہ یہ اپنے گاہکوں کو راغب کرنے کے لیے کافی رعایت دیتی ہیں۔

امریکہ اور یورپ کے برعکس بھارت میں زیادہ تر گاہک آن لائن خریداری کے لیے کمپیوٹر کے بجائے موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں۔

بھارت میں ہر سال چار کروڑ نئے فون کنکشن لیے جا رہے ہیں اور ملک میں كفايتي سمارٹ فونوں کے نئے ماڈلز آنے سے ان کی فروخت بھی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں