بھارت میں چھ سیاسی جماعتیں ’جنتا خاندان‘ میں ضم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جن چھ سیاسی جماعتوں نے آپس میں ملک کر ایک نئی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے ان میں جنتا دل (یو)، سماج وادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، انڈین نیشنل لوک دل، جنتا دل (سیکولر) اورسماج وادی جنتا پارٹی شامل ہیں

بھارت کی چھ سیاسی جماعتوں نے ایک جماعت ’جنتا خاندان‘ میں ضم ہوکر ایک نئی سیاسی پارٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

’جنتا خاندان‘ کے نام سے معروف ان سیاسی جماعتوں کے انظمام کا اعلان دہلی میں سرکردہ سیاسی رہنما شرد یادو نےکیا ہے۔

شرد یادو نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ اس نئی جماعت کےصدر ملائم سنگھ یادو ہوں گے۔

جن چھ سیاسی جماعتوں نے آپس میں ملک کر ایک نئی جماعت بنانے کا اعلان کیا ہے ان میں جنتا دل (یو)، سماج وادی پارٹی، راشٹریہ جنتا دل، انڈین نیشنل لوک دل، جنتا دل (سیکولر) اورسماج وادی جنتا پارٹی شامل ہیں۔

یہ تمام جماعتیں اور اس کے تمام سربراہان ایک زمانے میں اس ’جنتا دل‘ کا حصہ تھے جو سنہ 1988 میں وجود میں آیا تھا۔ اسی مناسبت سے اسے ’جنتا خاندان‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

سنہ 1988 میں جنتا دل کانگریس کے خلاف وجود میں آیا تھا اور تب اسے بی جے پی کا ساتھ ملا تھا۔ لیکن اس وقت جنتا خاندان کے اس اتحاد کی تمام کوششیں بی جے پی کے خلاف ہیں اور اسے کانگریس کا ساتھ ملتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جہاں بھارتی سیاست کا ایک دور مکمل ہوا تو ایک نئے دور کا آغاز بھی ہورہا ہے۔

تاریخی حقائق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وشوناتھ ترتاپ سنگھ نے کرپشن کے خلاف ملک میں مہم چلائیجس کو عوام کی اچھی حمایت ملی تھی۔ پھر انہیں کی کوششوں سے سنہ 1988 میں بنگلور میں جنتا دل کے نام سے نئی جماعت تشکیل پائی تھی

سنہ 1987 میں راجیو گاندھی کی حکومت میں وزیر رہنے والےکانگریس کے رہنما وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے بوفورس توپ سودے میں ہوئی مبینہ بدعنوانی کے سوال پر بغاوت کر دی تھی۔

وشوناتھ ترتاپ سنگھ نے کرپشن کے خلاف ملک میں مہم چلائیجس کو عوام کی اچھی حمایت ملی تھی۔ پھر انہیں کی کوششوں سے سنہ 1988 میں بنگلور میں جنتا دل کے نام سے نئی جماعت تشکیل پائی تھی۔

سنہ 1989 کے عام انتخابات میں کانگریس کے بعد جنتا دل سبسے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ اور کانگریس کے حکومت بنانے سےانکار کرنے کے بعد بی جے پی، بائیں بازو اور علاقائی جماعتوںنے ملکر نئی حکومت تشکیل دی جس کے وزیراعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ بنے تھے۔

لیکن جنتا دل کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی پارٹی میں رساکشی شروع ہوگئی اور پھر بکھرنے کا جو سلسلہ شروع ہوا تو اس کے کئی علاقائی رہنماؤں نے اپنی اپنی مناسبت سے اپنی ریاستوں میں نئی پارٹیاں بنا لیں۔

اکتوبر سنہ 1990 میں وشوناتھ پرتاپ سنگھ حکومت سے بی جےپی نے حمایت واپس لے لی اور جب حکومت گر گئی تو چندرشیکھر نے جنتا دل کے تقریباً 60 ارکان پارلیمان کو ساتھ لے کرسماج وادی جنتا پارٹی بنائی اور کانگریس کی حمایت سے وزیراعظم بھی بن گئے۔

پھر سنہ 1992 میں چندرشیکھر کی قیادت والی سماج وادیجنتا پارٹی سے ٹوٹ کر ملائم سنگھ یادو نے اپنی قیادت میں سماج وادی پارٹی بنائی۔

سنہ 1994 میں نتیش کمار اور دوسرے لیڈروں نے لالو پرساد یادوکی مخالفت کرتے ہوئے سمتا پارٹی تشکیل دی۔ لالو پرساد یادو اس وقت کے جنتا دل کے صدر اور بہار کے وزیر اعلیٰ تھے۔

اس پس منظر میں لالو پرساد نے 5 جولائی سنہ 1997 کو ’راشٹریہ جنتا دل‘ کے نام سے اپنی پارٹی تشکیل دی۔

سنہ 1999 میں سابق وزیراعظم دیو گوڑا کی قیادت میں جنتادل سیکولر کے نام سے ایک الگ پارٹی بنائی گئی۔اس وقت شرد یادوجنتا دل کے صدر تھے۔ بعد میں شرد یادو کی قیادت میں ہی جنتادل یونائیٹڈ یعنی جے ڈی یو وجود میں آیا۔

اب ان تمام جماعتوں اور ان کے سیاسی رہنماؤں نے بی جے پی کے خلاف ایک ساتھ آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس نئے اتحاد کی رہنمائي ملائم سنگھ یادو کریں گے لیکن کئی برسوں کے بعد ملائم سنگھ یادو، لالو پرساد یادو، نتیش کمار، دیو گوڑا، شرد یا دو، اجیت سنگھ اور شرد یادو جیسے بڑے سیاسی لیڈر ایک پلیٹ فارم پر نظر آئیں گے۔

ان کا الزام ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ملک میں فرقہ پرستی کی سیاست کر رہی ہے اور اس سے ملک کو بچانے کے لیے سیکولر جماعتوں کا ایک ساتھ آنا ضرفری ہے۔

اسی بارے میں