کشمیر میں مظاہرین پر فائرنگ سے ایک ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہڑتال کی کال حالیہ دنوں فوج کی فائرنگ کے دوران جنوبی کشمیر کے ترال قصبہ میں نوجوان کی ہلاکت اور مسرت عالم کی گرفتاری کے خلاف دی گئی

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں فرضی جھڑپوں اور علیحدگی پسند رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف جاری مظاہروں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور سنیچر کو ایسے ہی ایک مظاہرے میں فائرنگ سے ایک نوجوان ہلاک ہوگیا ہے۔

ادھر کشمیری رہنما سید علی گیلانی اور دوسرے علیحدگی پسند گروپوں کی کال پر سنیچر کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہڑتال کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے تعلیمی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔

ہڑتال کی کال حالیہ دنوں فوج کی فائرنگ کے دوران جنوبی کشمیر کے ترال قصبہ میں نوجوان کی ہلاکت اور مسرت عالم کی گرفتاری کے خلاف دی گئی۔

سرینگر کے مغربی علاقے ناربل میں سنیچر کی صبح بھارتی نیم فوجی اہل کاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے تین نوجوان زخمی ہوگئے۔

تینوں نوجوانوں کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں انِ میں شامل 17 سالہ سہیل صوفی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

عینی شاہدین کے مطابق نوجوان ناربل میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے کہ پولیس اور سی آر پی ایف نے ان پر براہ راست فائرنگ کی جس میں سہیل کی ہلاکت ہوگئی۔

پولیس کے ترجمان منوج کمار نے ایک بیان میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ گولی چلانے والے فورسز کے اہلکاروں نے ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

منوج کمار کے مطابق ’اس سلسلے میں ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے اور ہم تفتیش کر رہے ہیں۔ اس واقعہ میں ایک 17 سالہ نوجوان ہلاک ہوا اور ہم غمزدہ خاندان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عینی شاہدین کے مطابق نوجووان ناربل میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے کہ پولیس اور سی آر پی ایف نے ان پر براہ راست فائرنگ کی جس میں سہیل کی موت ہوگئی

واضح رہے کشمیر میں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حمایت سے پی ڈی پی کی حکومت بننے کے بعد سے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔

تازہ تنازع اُس وقت ہوا جب سید علی گیلانی کی ریلی میں مسرت عالم بٹ نے پاکستان نواز نعرے بازی کی اور لوگوں نے پاکستانی پرچم بھی لہرایا۔

حکومتِ ہند نے وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید پر دباؤ ڈالا کہ وہ مسرت عالم کو گرفتار کرے جنھیں حال ہی میں ساڑھے چار سال کی قید کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق مسرت عالم نے سنہ 2010 میں کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی اور وہ زیرِ زمین رہ کر ہر ہفتے احتجاج کا پروگرام جاری کرتے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال مسرت عالم سات روز تک پولیس حراست میں رہیں گے اور بعد میں ان کے خلاف غداری کا مقدمہ عدالت میں پیش ہوگا۔

دریں اثنا جموں کٹرہ شہر میں بی جے پی کے کارکنوں کا دوروزہ اجلاس جاری ہے۔ اجلاس میں شرکت کے دوران نائب وزیراعلیٰ نرمل سنگھ نے کہا ’کشمیر میں قوم دشمنوں کو بخشا نہیں جائے گا۔‘

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں فی الوقت ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حمایت یافتہ پی ڈی پی کی حکومت ہے اور وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کو آئے روز بی جے پی اور حکومت ہند کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسی بارے میں