’سعودی عرب نے خطے میں نفرت کے بیج بو دیے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران حوثی باغیوں کی حمایت کرتا ہے تاہم انھیں کسی بھی قسم کے فوجی امداد فراہم کرنے سے انکار کرتا ہے

ایران کے صدر حسن روحانی نے سعودی عرب کو یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی بمباری پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

دارالحکومت تہران میں فوج کے قومی دن کے موقعے پر ٹی وی پر براہ راست نشر کی گئی تقریر میں صدر روحانی نے سعودی عرب پر خطے میں نفرت کے بیج بونے کا الزام عائد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کو جلد یا بدیر اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

صدر روحانی نے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کے اس بیان کی تائید بھی کی جس میں انھوں نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے حوثی باغیوں کے خلاف مہم کو قتل عام قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ ایران حوثی باغیوں کی حمایت کرتا ہے تاہم انھیں کسی بھی قسم کے فوجی امداد فراہم کرنے سے انکار کرتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا: ’آپ نے خطے کے عوام کے دلوں میں نفرت کے بیج بو دیے ہیں، جلد یا بدیر آپ کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ سعودی عرب اس کارروائی سے کیا حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے۔

حسن روحانی کا کہنا تھا کہ ’شام، لبنان اور عراق میں دہشت گردوں کو مالی امداد اور اسلحے کی فراہمی کا کیا مطلب ہے؟ یمن میں معصوم اورمظلوم لوگوں پر بمباری کا کیا مطلب ہے؟ آپ کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا بچوں کو مارنے سے آپ طاقت حاصل کر لیں گے؟‘

ادھر ایرانی خبررساں ادارے اسنا کے مطابق ایران وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ ایران یمن میں جاری ’فوجی کارروائیوں‘ کے خاتمے کے لیے کسی بھی قسم کی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

اسنا کے مطابق جواد ظریف نےاومان کے وزیرخارجہ یوسف بن علوی بن عبداللہ نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران اپنے ’فور آرٹیکل پلان‘ کے فریم ورک تحت یمن میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور تمام یمنی فریقین کے مابین مذاکرات کے آغاز کے لیے تمام ضروری معاونت فراہم کر سکتا ہے۔‘

دوسری جانب سعودی عرب نے یمن میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے امداد کی اپیل میں مانگی گئی تمام رقم دے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری تنازع کے باعث اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں

سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب یمن میں جنگ سے متاثرہ عوام کو 27 کروڑ 40 لاکھ ڈالر امداد فراہم کرے گا۔

سرکاری سطح پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اپنے یمنی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بیان اقوام متحدہ کی جانب سے عالمی برادری سے یمن میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک کی فضائی کارروائیوں سے متاثرہ افراد کے لیے 27 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد کی اپیل کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری تنازع کے باعث اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں خاندان اپنے گھروں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں