افغانستان میں بارودی سرنگیں تلف کرنے والے بارہ افراد اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں باردو سرنگوروں کو تلف کرنے والے ٹیم بغیر کسی رکاوٹ کے کئی ہفتوں سے کام کررہی تھی اور انھیں دیہاتی افراد سکیورٹی فراہم کرتے تھے

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبے پکتیا میں نامعلوم مسلح افراد نے بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والے ٹیم میں شامل کئی افراد کو اغوا کر لیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں باردو سرنگوروں کو تلف کرنے والے ٹیم بغیر کسی رکاوٹ کے کئی ہفتوں سے کام کررہی تھی اور انھیں دیہاتی افراد سکیورٹی فراہم کرتے تھے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے کم سے کم 12 افراد کو مغوی بنایا ہے۔

افغانستان میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والی ٹیم پر اس سے قبل بھی مسلح افراد نے حملے کیے ہیں اور انھیں اغوا کیا ہے۔ جس کے بعد مقامی قبائل اور اغواکاروں کے درمیان مذاکرات کے بعد مغویوں کو رہا کر دیا گیا۔

ادھر افغان صوبے ہلمند میں بھی مسلح افراد نے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا ہے۔

پکتیا صوبے کے پولیس کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ زورمت ضلع میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے والے ٹیم بغیر کئی ہفتوں سے کام کر رہی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ عموما ان افراد کو پولیس یا فوج سکیورٹی فراہم نہیں کرتی بلکہ اس معاملے میں مقامی افراد ٹیم کی سکیورٹی پر مامور ہوتے ہیں۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ اغوا کاروں نے مغویوں کو گاڑیوں سمیت اغوا کیا ہے اور اُن کی رہائی کے لیے کوشش جاری ہے۔

اس سے قبل گذشتہ سال افغان صوبے ہلمند سے بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے والے 12 افراد کو اغوا کیا گیا تھا اور اس کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔

دوسری جانب افغانستان کے صوبے ہلمند کے جنوبی شہر لشکر گڑھ میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا ہے۔ جس میں ایک شہری سمیت دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

کسی بھی گروہ نے ان افراد کو اغوا کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

ہلمند پولیس کے سربراہ نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ دو مسلح افراد پولیس سٹیشن میں داخل ہوئے جبکہ ایک نے باہر اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

یاد رہے کہ افغانستان کا صوبہ ہلمند طالبان کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

یہ حملے ایک ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب گذشتہ روز جلالہ آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں 33 افراد ہلاک اور 125 افراد زخمی ہوئے تھے۔ افغان صدر اشرف غنی نے اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر عائد کی ہے۔

اسی بارے میں