’دفاعی پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چینی صدر کے پاکستان دورے کو بھارت میں بہت باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے

پاکستان اور چین کے درمیان اربوں ڈالر کے ترقیاتی منصوبوں کے معاہدوں پر اسلام آباد اور بیجنگ میں اطمینان اور خوشی کا اظہار کیاگیا ہے لیکن اقتصادی راہداری کی تعمیر اور گوادر بندرگاہ لیز پر چین کودیے جانے کے معاہدوں پر بھارت میں تشویش پائی جاتی ہے ۔

مجوزہ ڈھائی ہزار کلومیٹر لمبی اقتصادی راہداری پاکستان کی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے لیکن بھارت کے سابق سفارتکار راجیو ڈوگرہ کا کہنا ہے کہ یہ راہ داری بعض متنازع علاقوں سے گزرے گی جس پر بھارت کو اعتراض ہو گا۔

انھوں نے کہا: ’بھارت نے پہلے بھی اس طرح کے منصوبوں پر اعتراض کیا ہے اور اب بھی کرے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین اس راہداری کے ذریعے اپنے طویل تجارتی کےراستے کو کم کرناچاہتا ہے اور اس سے خطے میں بھی اس کی پوزیشن مستحکم ہو گی۔‘

گوادر بندرگاہ کو لیز پر چین کے حوالے کیے جانے پر بھارت میں پہلے بھی تشویش اور فکر رہی ہے۔ راجیو ڈوگرہ کہتے ہیں: ’اگرچہ اس کا بنیادی پہلو اقتصادی ہے لیکن چین نے پاکستان کو آٹھ آبدوزیں بھی دینے کی بات کی ہے اوریہ جوہری آبدوزیں بھی ہو سکتی ہیں۔ گوادر بندرگاہ چین کی بحریہ کا ایک اڈہ بھی بن سکتا ہے۔ اس لیے اس کے دفاعی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان سے قبل چینی صدر نے بھارت کا دورہ کیا تھا اور آئندہ بھارتی وزیر اعظم چین کے دورے پر جا رہے ہیں

راجیو ڈوگرہ کا خیال ہے کہ چین نے پٹرول اور گیس کی سکیورٹی کے معاملے میں بہت کامیاب سفارتکاری کی اور اب اس کی نظر عرب اور خلیجی ملکوں پر ہے۔

انھوں نے کہا: ’چین نے روس ، قزاقستان اور ترکمنستان سے تیل اور گیس کے کئی طویل مدتی معاہدے کیے ہیں۔ پاکستان کےتوسط سے وہ اب اپنی توجہ عرب ممالک اور ایران پر مرکوز کر سکے گا۔‘

چین کے صدر شی جن پنگ کےاسلام آباد دورے کو بھارت میں گہری نظر سے دیکھا گیا ہے۔ دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں چینی امور کے مطالعے کی پروفیسر ڈاکٹر الکا آچاریہ کا کہنا ہے کہ خطے میں چین کی سرگرمیاں جس رفتار سے بڑھی ہیں اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کو ان کے بارے میں چین سے کھل کر بات کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا: ’بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنی تشویش سے چین کو آگاہ کرے اور اس کے ساتھ اس پہلو پر بات ہونی چاہیے کہ کون سی سرگرمی قابل قبول ہے اور کون سی نہیں۔‘

Image caption بھارت کو کاشغر سے گودار تک جانے والی اقتصادی راہداری پر تشویش ہے

بھارت کی طرف سے سرکاری طور پر کوئی رد عمل نہیں آیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی آئندہ ماہ چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔ چین کا ان کا یہ دورہ سفارتکاری اور بھارت کے مفاد دونوں لحاظ سےبہت اہم ہے۔

چینی امور کے ماہرین اس دورے کی بات چیت کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ مودی چین کو اقتصادی ترقی کا ماڈل تصور کرتے ہیں۔ ماضی میں وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ چین کو ’دشمن نہیں، مدِمقابل‘ سمجھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وزیر اعظم مودی صدر شی سے مذاکرات میں پاکستان کے سلسلے میں بھارت کی تشویش پر کھل کر بات کریں گے۔

اسی بارے میں