ایشوریہ کا ’نسل پرستانہ‘ اشتہار ہٹا لیا گیا

ایشوریا رائے بھچن تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایشوریا رائے بھچن کی تشہیر والی کمپنی کا کہنا ہے کہ انھوں نے تصویر اکیلے کھنچوائی تھی

بھارت میں جیولری کا ایک اشتہار، جس میں بالی وڈ کی مشہور اداکارہ ایشوریہ رائے بچن تھیں، نسل پرستی اور بچوں سے مزدوری کی تشہیر جیسے الزامات کے بعد ہٹا لیا گیا ہے۔

اس اشتہار میں ایک سانولے رنگ کے دبلے پتلے بچے کو دکھایا گیا ہے جو ایک زیورات سے لدی سفید رنگت کی اداکارہ پر سرخ چھتری تانے کھڑا ہے۔

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے ایشوریہ رائے کو ایک کھلے خط میں لکھا ہے کہ یہ تصویر انتہائی قابلِ اعتراض ہے۔

ایشوریہ کی اشتہاری فرم نے کہا ہے کہ ان کی تصویر بچے کے بغیر لی گئی تھی۔

ان کے پبلسٹ نے ایک بیان میں کہا کہ اشتہار کی حتمی ترتیب برانڈ کی تخلیقی ٹیم کا استحقاق ہے۔

کلیان جیولرز کا یہ اشتہار گذشتہ ہفتے اخبارات میں شائع ہوا تھا، جس میں 41 سالہ سابق مس ورلڈ نے کام کیا تھا۔

تنقید کے بعد کمپنی نے اپنے فیس بک صفحے پر معذرت شائع کی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ اشتہار میں شاہانہ شان و شوکت، وقت کی قید سے آزاد خوبصورتی اور لطافت دکھانے کی کوشش کی گئی تھی۔ کمپنی نے اشتہار سے نادانستہ طور پر کسی کے جذبات مجبور ہونے پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

کپمنی نے کہا ہے کہ اس نے اپنی اشتہاری مہم سے وہ اشتہار واپس لے لیا ہے۔

بدھ کو شائع ہونے والے ایک کھلے خط میں سرگرم کارکنوں کے ایک گروہ نے اشتہار میں ’ناپسندیدہ تصویر‘ پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’اشتہار میں آپ زیورات پہن کر باوقار طریقے سے آرام کرتی ہوئی گزرے وقتوں کا امیرانہ انداز پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ ظاہری طور پر ایک دبلا پتلا چھوٹا غلام بچہ، جس کی رنگت بہت سیاہ ہے، آپ کے سر پر ایک بڑی چھتری تانے رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

’اشتہار میں پیش کی گئی آپ کی انتہائی صاف جلد غلام بچے کی سیاہ جلد کے برعکس ہے جو کہ صاف نظر آ رہا ہے کہ اشتہاری ایجنسی نے جان بوجھ کر کیا ہے اور وہ نسل پرستانہ ہے۔‘

کارکنوں نے کہا کہ یہ تصویر انھیں 17 ویں اور 18 ویں صدی کے یورپی نوآبادیاتی دور کے سفید فام اشرافیہ کے پورٹریٹس کی یاد دلاتی ہے جس میں ان خواتین کے پیچھے سیاہ فام غلام کھڑے ہوتے تھے۔ انھوں نے اداکارہ سے کہا کہ وہ فوراً اس نازیبا تصویر سے لاتعلقی اختیار کر لیں۔

اسی بارے میں