کشمیر: جنسی زیادتی پر چار کو سزائے موت

Image caption کشمیر میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے کئی معاملات عدالتوں میں درج ہیں

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں آٹھ سال قبل ایک 13 سالہ لڑکی کے ساتھ اغوا کے بعد جنسی زیادتی اور پھر قتل کے معاملے میں ایک مقامی عدالت نے چار مجرموں کے لیے سزائے موت کا فیصلہ سنایا ہے۔

کشمیری عدلیہ کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق سنہ 2007 میں شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع میں لنگیٹ قصبے کی ایک 13 سالہ لڑکی تابندہ غنی شاہ کو مغربی بنگال کے موچی جہانگیر انصاری، راجستھان کے سریش کمار اور دو مقامی شہریوں صادق میر اور اظہر میر نے اغوا کیا اور بعد میں ایک سنسان مقام پر لے جا کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

چند روز بعد ہی تابندہ کی زخمی لاش ملی تھی۔ سات سال تک پیچیدہ عدالتی کارروائی کے بعد عدالت نے چاروں کو ’بے مثال‘ جرم کی پاداش میں موت کی سزا سنائی ہے۔

کشمیر میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے کئی معاملات عدالتوں میں درج ہیں ان میں کپواڑہ کے ہی کونن پوش پورہ کی 40 سے زائد خواتین کے ساتھ 24 سال قبل ہونے والے جنسی زیادتی کا واقعہ عالمی توجہ کا بھی مرکز بنا تھا۔

کشمیر میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی شمالی کشمیر کے گاوں کونن پوش پورہ کی درجنوں خواتین کے ساتھ فوجیوں نے جنسی زیادتی کی تھی۔ تب سے ہر سال اس کیس سے متعلق یہاں کے رضاکار انصاف کی دہائی دیتے ہیں۔

یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں بھی زیرِسماعت رہا جس پر مفتی محمد سعید کی نئی حکومت نے بھی اعتراض کیا ہے۔

اسی بارے میں