’جرمنی کو مشرقی یوکرین میں طیاروں کو لاحق خطرے کا علم تھا‘

فلائٹ ایم ایچ 17 کا ملبہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فلائٹ ایم ایچ 17 ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی اور اس میں سوار 196 افراد ڈچ تھے

اطلاعات کے مطابق جرمنی کو مشرقی یوکرین سے میں حادثے کا شکار ہونے والے ملائیشن ائیر لائن کے حادثے سے کچھ عرصہ قبل خطرے سے آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن وہ اس وارننگ کو آگے پہنچانے میں ناکام رہا۔

جرمن میڈیا کے مطابق جہاز کو پیش آنے والے حادثے سے دو دن پہلے بھیجی جانے والے سفارتی کیبلز میں کہا گیا تھا کہ صورتحال ’بہت سنگین‘ ہوگئی ہے۔

اس پیغام میں 14 جولائی کو یوکرینی فضائیہ کے گرنے والے جہاز کی مثال دی گئی تھی جو 20000 فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔

ملائیشین ایئر لائن کی فلائٹ ایم ایچ 17 کو اس سفارتی کیبلز کے تین دن بعد گرایا گیا تھ اور مسافر جہاز میں سوار عملے کے افراد سمیت 298 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

یہ طیارہ ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہا تھا اور اس میں سوار 196 افراد ڈچ تھے۔

نیدرلینڈز کی سربراہی میں ہونے والی بین الاقوامی سطح کی تحقیقات کے مطابق طیارے کو زمین سے مار کرنے والے روسی ساختہ ’بک میزائل‘ لانچر کی مدد سے گرایا گیا تھا۔

تحقیق کاروں نے ان عینی شاہدوں سے سامنے آنے کی اپیل کی ہے جنہوں نے جہاز گرنے سے کچھ دیر قبل باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں اس لانچر کو آتے ہوئے دیکھا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیدرلینڈز کی سربراہی میں ہونے والی بین الاقوامی سطح کی تحقیقات کے مطابق ایم ایچ 17 کو میزائل مار کر گرایا گیا تھا

جرمنی کے مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق وزارت خارجہ کی ان کیبلز میں 14 جولائی 2014 کو گرنے والے یوکرین کے ملٹری طیارے خاص کر کے اس کی اونچائی کا ذکر کیا گیا ہے۔

ملائیشین ایئر لائن کو جس وقت میزائل لگا تو وہ 33000 فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی کی انٹیلیجنس نے فضائی سکیورٹی کو لاحق خطرے کے حوالے سے بارہا خبردار کیا تھا۔ اس کے باوجود جرمن ایئرلائن لفتھانزا کے ذرائع کے مطابق صورتحال میں تبدیلی کے حوالے سے انہیں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق لفتھانزا کے تین طیارے ایم ایچ 17 کے حادثے سے قبل اس علاقے سے گزرے تھے جن میں سے ایک صرف بیس منٹ پہلے وہاں سے گزرا تھا اور یہ ان کی قسمت تھی کہ وہ بچ گئے۔

جرمنی کی دیگر ایئرلائنز اس علاقے سے گزرنے سے گریز کر رہی تھیں۔

لفتھانزا کے ذرائع کے مطابق ’اگر حکومت ہمیں خبرادار کرتی اور اس ’نئی صورتحال‘ کے بارے میں بتاتی تو کوئی بھی جہاز مشرقی یوکرین کے اوپر سے نہ گزرتا۔‘

اسی بارے میں