’ایورسٹ سے زندہ لوٹ آنے کی خوشی‘

Image caption سنگیتا بہل کو بی بی سی سے بات کرنے سے چند منٹ قبل ہی یہ اچھی خبر ملی کہ ان کے خاوند اپنی ٹیم کے ہمراہ خیریت سے ہیں

بھارتی کوہ پیما سنگیتا سندھی بہل سنیچر کو نیپال میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد دو روز تک اپنے خاوند کی خیریت کے لیے کافی پریشان رہنے کے بعد آخر کار سکھ کا سانس لے سکتی ہیں۔

ان کے خاوند انکور بہل جو خود بھی کو پیما ہیں اور جس وقت نیپال میں زلزلہ آیا وہ ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کے لیے اپنے سفر کا آغاز کرنے ہی والے تھے۔

پیر کو سنگیتا سندھی کو بی بی سی سے بات کرنے سے چند منٹ قبل ہی یہ اچھی خبر ملی کہ ان کے خاوند اپنی ٹیم کے ہمراہ خیریت سے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ بیس کیمپ میں پہنچ گئے ہیں۔ اس سے قبل پیر کی صبح انکور اپنے ساتھیوں کے ساتھ کیمپ ٹو جو 21000 فٹ کی بلندی پر ہے سے نیچے اتر کر کیمپ ون پر آگئے تھے جو 19865 فٹ کی بلندی ہے، وہاں سے انھیں ہیلی کاپٹر کی مدد سے بیس کیمپ لایا گیا۔

انھوں کا کہنا ہے کہ ’ ہم میں سے جب بھی کوئی پہاڑوں پر ہوتا ہے ہم آپس میں بات چیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ سنیچر کے روز چھ بج کر 30 منٹ پر انکور نے مجھے ٹیکسٹ میچ بھیجا کہ وہ کیمپ ٹو کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘

سنگیتا کا کہنا ہے کہ جب سنیچر کی صبح زلزلہ آیا تو وہ بہت پریشان ہوگئی تھیں۔

Image caption ’ میں پہلے ایک بیوی ہوں بعد میں کوہ پیما ہوں میں گھبرا گئی تھی‘

’ میں خود بھی ایک کوہ پیما ہوں تو میں جانتی ہوں کہ پہاڑوں پر کیسا ہوتا ہے۔ میں نے خراب موسم کا سامنا کیا ہے اور میں اپنی ٹیم سے جدا ہوگئی تھی لیکن میں خود سے کہہ رہی تھی کہ وہ ایک تجربہ کار کوہ پیما ہیں وہ خیریت سے ہوں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن میں پہلے ایک بیوی ہوں بعد میں کوہ پیما ہوں، میں گھبرا گئی تھی۔‘

سنگیتا بہل نے بتایا کہ تقریباً تین بجے ان کے خاوند نے انھیں کال کی تھی۔ ’ انھوں نے مجھے اپنے سیٹلائٹ فون سے مختصر کال کی تھی اور بتایا تھا کہ یہاں شدید جھٹکے ہیں لیکن وہ اور ان کی ٹیم محفوظ ہیں۔ان کے فون کی بیٹری کمزور تھی اس لیے انھوں نے کہا کہ بعد میں کال کروں گا۔‘

اس کے بعد سے مسز بہل کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ تب سے پیر کی صبح تک وہ کیسے تھے اور کہاں تھے۔ جب انھیں ایک کوہ پیمائی کی کمپنی سے ایک پیغام موصول ہوا کے مسٹر بہل اور دوسرے کوہ پیما محفوظ ہیں۔

سنگیتا بہل گذشتہ دو روز سے اپنے خاوند کی خیریت کے لیے دعائیں کرتی رہیں اور انھیں بچانے کے لیے بھارتی حکومت سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔

’ میں ایک بہترین نیٹ ورکر ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ میں خود غرض ہوگئی تھی لیکن میں اپنے خاوند کو اس مشکل سے نکالنا چاہتی تھی۔‘

Image caption انھوں نے بتایا کہ ان کے خاوند ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے کو لے کر کافی خوش تھے اور انھوں نے اس مہم کے لیے بہت سخت محنت کی تھی

انھوں نے بتایا کہ ’میں نے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کو ٹویٹس کیں اور ان سے انکور کی مدد کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کی درخواست کی تھی۔‘

54 سالہ انکور بہل اور 51 سالہ سنگیتا تجربہ کار کوہ پیما ہیں۔ جنھوں نے ایک ساتھ چند سال پہلے ساتوں براعظموں کی بلند ترین پہاڑیوں کو سر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس جوڑے نے اپنی اس مہم کے دوران چار پہاڑیوں جن میں افریقہ کی کیلی منجارو، روس میں ایلبرس ، اینٹارٹیکا کی ونسن اور جنوبی امریکہ کی اکون کاگوا کو سر کیا تھا لیکن پانچویں مہم جوئی کے دوارن شمالی امریکہ کی ماؤنٹ مک کنلے نامی پہاڑی کی جانب بڑھتے ہوئے سنگیتا بہل کو گھٹنا زخمی ہو جانے کے باعث وہاں سے نکال کر واپس لے جایا گیا تھا۔

سنگیتا نے بتایا کہ ’ہمارے دو بیٹے اور بوڑھے والدین ہیں لہذا ہم نے ایک ساتھ کوہ پیمائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے خاوند ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے پر کافی خوش تھے اور انھوں نے اس مہم کے لیے بہت سخت محنت کی تھی۔

’ ہمیں ہر وقت ٹریننگ کرنی پڑتی ہے۔ ہم ہفتے کے چھ دن ٹریننگ کرتے ہیں اور یہ بہت مشکل ہوتی ہے لیکن ہم اس سے مخصوص ہوتے ہیں۔‘

اسی بارے میں