امداد کے منتظر نیپالی دیہات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیپال میں 80 سال بعد آنے والے شدید ترین زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 4000 سے بڑھ چکی ہے

نیپال میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں دوردراز کے متاثرہ علاقوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کوشاں امدادی ٹیموں کے بیانات سے لگتا ہے کہ زلزلے کے مرکزی علاقے بدترین تباہی کا شکار ہوئے ہیں اور ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

بی بی سی ہندی کی دویہ آریہ کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ، خطرے کے سبب ابھی تک ان علاقوں تک نہیں پہنچ پائی۔

وشمبھرا گاؤں بھی ان میں سے ایک ہے جہاں بی بی سی کی ٹیم پیدل پہاڑ پر چڑھ کر پہنچی۔

25 گھروں پر مشتمل اس گاؤں میں تمام مکانات منہدم ہو گئے ہیں یا انھیں زبردست نقصان ہوا ہے۔ دیواروں میں اتنے شگاف ہیں کہ گھر کے اندر جانا خطرے سے خالی نہیں۔

زلزلے کے مزید کسی جھٹکے سے یہ گھر تباہ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے گاؤں والے ان گھروں کے اندر نہیں جا رہے ہیں۔

گاؤں میں رہنے والے سورج کا گھر بالکل تباہ ہو چکا ہے۔ وہ اپنے جسم کا کپڑا دکھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ بس اتنا ہی بچا پائے۔

کھٹمنڈو کے مغرب میں واقع گورکھا بھی سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔

وہاں پہنچنے والے ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ پورا گاؤں تباہ ہو چکا ہے اور لگتا ہے کہ دیگر جگہوں پر بھی یہی صورتحال ہوگی۔

ضلعے کے ایک سینئیر اہلکار پرشاد تیمل سینا کے مطابق گورکھا کی آبادی تقریباً تین لاکھ ہے اور یہ دارالحکومت کھٹمنڈو سے چار گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’ میرے پاس یہ اطلاعات ہیں کہ وہاں موجود گاؤں میں 70 فیصد گھر تباہ ہو چکے ہیں۔‘

پرشاد تیمل سینا کے مطابق اب تک 222 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے تاہم ہزاروں افراد زخمی ہیں جس کے باعث مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پیر کو ایک بھارتی صحافی جگل پروہت نے انڈین آرمی کے ہیلی کاپٹر میں گورکھا میں جا کر رپورٹنگ کی۔ فضائی مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں کے دیہات میں گھر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔

پوکھرا

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پوکھرا جو کہ زلزلے کا مرکز تھا وہاں موجود فلاحی ادارے ورلڈ وژن کے اہلکار میٹ درواس نے بی بی سی کو بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے جب انھوں نے اس علاقے کے لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا تو ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں 1100 گھر موجود تھے جن میں سے 90 فیصد ختم ہو چکے ہیں۔

وسیع پیمانے پر تباہی

اہم امدادی اداروں کی ٹیمیں دوردراز علاقوں میں کوششوں کے باوجود نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سے ادارے ایسے ہیں جو مغربی نیپال میں مقامی تنظیموں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔

لیکن بتایا جاتا ہے کہ گورکھا اور لامجونگ جیسے پہاڑی علاقے جو کہ گھنے جنگلات سے گھرے ہوئے ہیں وہاں عام حالات میں بھی رسائی اتنی آسان نہیں ہوتی تھی۔ اور اب جب زلزلے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے تو راستے بھی بند ہوگئے ہیں۔

ورلڈ وژن کے اہلکار میٹ درواس کے مطابق گورکھا کے چند علاقوں میں پہنچنے تک پانچ دن لگے سکتے ہیں۔

چاندرا کےآشتا بگلنگ جو کہ کھٹمنڈو سے 270 کلومیٹر دور واقع ہے میں پلان انٹرنیشنل نامی ادارے کے یونٹ مینیجر ہیں۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں میں سکول اور گھروں کی تباہی بنیادی مسئلہ ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ نیپال کے مغربی پہاڑی علاقے میں ویگن کے سفر میں بھی چار گھٹنے لگتے ہیں اور وہاں پہلے بھی سڑک کی سہولتی موجود نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

خلائی ایجینسیوں سے مدد

اس تمام صورتحال میں دنیا کی بڑی خلائی ایجینسیاں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت زلزلے سے تباہ ہونے والے علاقوں کی سیٹلائٹ کے ذریعے تصاویر لیں گی جن کے ذریعے امدادی سرگرمیوں میں مدد ملےگی۔

یونیسیف کی رابطہ کار افسر روپا جوشی کے مطابق ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ گاؤں ایسے ہیں جہاں مرد بیرونِ ملک روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔

اسی بارے میں