سعودی عرب میں اب سوتیلے بھائی کی جگہ بھتیجا ولی عہد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی عرب کے بااثر وزیر داخلہ محمد بن نائف کو ولی عہد مقرر کیا گيا ہے

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ملکی کابینہ میں بڑے ردوبدل کا اعلان کرتے ہوئے اہم تبدیلیاں کی ہیں۔

شاہ سلمان نے اپنے سوتیلے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کی جگہ وزیر داخلہ محمد بن نائف کو ولی عہد مقرر کیا ہے۔

خیال رہے کہ وزیر داخلہ نائف شاہ سلمان کے بھتیجے ہیں اور انھیں شاہی صف میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

سعودی عرب کے بادشاہ نے اپنے 30 سالہ بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد نامزد کیا ہے۔

خیال رہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز رواں سال جنوری میں اپنے سوتیلے بھائی شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد سعودی عرب کے بادشاہ بنائے گئے تھے۔

بی بی سی کی نامہ نگار کم گھٹاز کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی شاہ سلمان کی نئی نسل کو سامنے لانے کی کوششوں کی غماز ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کے بادشاہ نے اپنے 30 سالہ بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد نامزد کیا ہے

نامہ نگار کے مطابق 55 سالہ شہزادہ نائف اور محمد بن سلمان کے سامنے آنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سلطنت کی قیادت نئی نسل کے ہاتھوں میں جائے گی۔

شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے دنیا میں سب سے لمبے عرصے تک وزیر خارجہ رہنے والے شہزادہ سعود الفیصل کا استعفی بھی منظور کر لیا ہے۔

خیال رہے کہ شہزادہ سعود الفیصل سنہ 1975 سے سعودی عرب کے وزیر خارجہ ہیں۔

ان کی جگہ واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر عدل الجبیر کو سعودی عرب کا وزیر خارجہ نامزد کیاگیا ہے جن کا شاہی خاندان سے تعلق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ یمن کے حالیہ بحران کے دوران سعودی عرب اور ایران میں زبردست اختلافات سامنے آئے ہیں۔

اس سے پہلے جنوری میں بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اقتدار سنبھالنے کے ایک ہفتے بعد ملک کی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے انٹیلی جنس کے سربراہ اور قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل کو بھی تبدیل کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ مکہ اور ریاض کے گورنر بھی بدل دیے گئے تھے۔

اس وقت کے شاہی فرمان کے مطابق خالد بن بندر بن عبدالعزیز کی جگہ جنرل خالد بن علی کو ملک کے خفیہ ادارے کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا جن کا عہدہ وزیر کے برابر ہو گا۔

ایک اور فرمان میں سابق شاہ عبداللہ کے بھتیجے اور امریکہ میں 22 برس تک سعودی عرب کے سفیر رہنے والے شہزادہ بندر بن سلطان کو قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جنرل اور بادشاہ کے مشیر کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

اسی بارے میں