’مودی کے اقتدار میں اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکی کمشین برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ عام انتخابات کے بعد سے حزب اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات دیتےرہے ہیں

بھارت کی حکومت نے امریکی کانگریس کے ایک پینل کے اس دعوے کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں کہا گیا تھا کہ نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

بھارت کی وزارتِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پینل کی رپورٹ بھارت کو نہیں سمجھتی۔ بھارت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے اقلیتوں کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

نریندر مودی تمام اقلیتیوں کو بھرپور سلامتی فراہم کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔

امریکی کمشین برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ عام انتخابات کے بعد سے حزب اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہتک آمیز اور اشتعال انگیز بیانات دیتےرہے ہیں اور اقلیتوں کے خلاف حملوں اور راشٹریا سیوک سنگھ اور وشا ہندو پریشد جیسی انتاہ پسند تنظیموں کی طرف سے مذہب کی جبری تبدیلی کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ میں مسلمان اور مسیحی برادری کے خلاف عدم رواداری کی بات کہی گئی ہے

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گذشتہ سال دسمبر میں ہندو گروہوں نے چار ہزار مسیحی خاندانوں اور ایک ہزار مسلم گھرانوں کے افراد کو اتر پردیس میں ’گھر واپسی‘ کے نام سے چلائی جانے والی مہم میں جبری طور پر ہندو بنانے کا اعلان کیا تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ باوجود ایک سیکولر جمہوریت ہونے کے بھارت اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جس سے اقلیتوں کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکاس سروپ نے کہا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے آئین اور معاشرے کے بارے میں اس کی معلومات محدود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ رپورٹ کو توجہ کے قابل نہیں سمجھتیں۔