’نیپال امدادی سامان کی کسٹم کلیئرنس کو تیز کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امدادی سامان اس وقت کسٹم کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے ملک کے واحد ہوائی اڈے پر جمع ہو رہا ہے

اقوام متحدہ نے نیپال کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ زلزلہ متاثرین کے لیے آنے والے امدادی سامان کے لیے اپنے کسٹم قوانین میں نرمی کرے۔

اقوام متحدہ میں فلاحی کاموں کی سربراہ ویلری آموس کے مطابق نیپالی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امدادی سامان کی کسٹم کلیئرنس کو تیز کرے۔

1000 یورپی لاپتہ

90زلزلے کے مرکز میں فیصد سے زائد حصے تباہ

نیپال میں ایک ہفتے قبل آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہزار آٹھ سو چالیس ہو گئی ہے جبکہ بڑی تعداد میں متاثرین امداد سے محروم ہیں۔

بین لاقوامی برادری کی جانب سے بھجوائے جانے والی امداد کی ایک بڑی مقدار کھٹمنڈو ایئر پورٹ پر کسٹم کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بڑی تعداد میں متاثرین اب بھی امداد کے منتظر ہیں

ویلری آموس کا کہنا ہے کہ انھوں نے نیپال کے وزیراعظم سوشیل کوئرالا کو یاد کرایا ہے کہ انھوں نے سال 2007 میں اقوام متحدہ سے کسی آفت کی صورت میں کسٹم کلیئرنس کو سادہ اور تیز کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

ویلری آموس کے مطابق وزیراعظم نے اس معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور امید ہے کہ اب انتظامی معاملات میں بہتری آئے گی۔

نیپال میں اقوام متحدہ کے نمائندے جیمی میک گولڈریک نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیپالی حکومت کو عام حالات کے لیے بنایے گئے کسٹم قواعد و ضوابط کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

نیپال کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان لکشمن پرشاد کے مطابق جمعے سے خیموں اور ترپالوں پر عائد درآمدی ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے تمام سامان کی جانچ پڑتال کرنا ضروری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیپال کی 80 سالہ تاریخ میں یہ سب سے تباہ کن زلزلہ ہے جس میں لگ بھگ 80 لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے

نیپال میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے انتظامی شعبے کے ڈائریکٹر رمیشور کے مطابق اب بھی بڑی تعداد میں متاثرین امداد یا ہیلی کاپٹروں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے منتظر ہیں۔

انھوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ کئی علاقوں میں لوگوں کو امداد نہیں مل سکی ہے اور قدرتی بات ہے کہ وہ اس سے ناخوش ہیں۔‘

دوسری جانب نیپالی حکومت نے بیرون ملک سے آنے والی امداد پر بھی تنقید کی ہے۔

وزیرِ خزانہ رام شرن کا کہنا ہے کہ’ ہمیں ٹونا مچھلی اور میونیز جیسی امدادی اشیا مل رہی ہیں اور یہ کس کام کی ہیں، ہمیں اناج، نمک اور چینی کی اشد ضرورت ہے۔‘

بچ جانے کی امیدیں معدوم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب بھی بڑی بھی بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں

زلزلے کے ایک ہفتے بعد امدادی کارروائیوں میں ملبے تلے موجود افراد میں سے کسی کے زندہ بچ جانے کی امیدیں بھی معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان لکشمن پرساد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے سے زندہ افراد کو تلاش کرنے کی امید باقی نہیں رہی۔

’ہم ہر ممکن طور پر بچاؤ اور امداد کا کام کر رہے ہیں مگر میرے خیال سے ملبے تلے مزید کسی کے زندہ بچ جانے کا امکان نہیں ہے۔‘

بی بی سی کےنامہ نگار سنجوئے مجندر کے مطابق اب بھی ملبے تلے سے لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں دوردراز کے علاقوں سے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی ہیں لیکن اب بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔

امداد اور ہیلی کاپٹروں کی ضرورت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دور افتادہ علاقوں سے دارالحکومت پہنچایا جا رہا ہے

جمعے کو نیپالی حکومت نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ اسے مزید ہیلی کاپٹر فراہم کرے تاکہ وہ دور دراز کے علاقوں میں فضائی امداد پہنچا سکے اور زخمیوں کو ہسپتالوں تک منتقل کر سکے کیونکہ نیپال کے متاثرہ علاقوں تک زمینی راستے سے پہنچنا ممکن نہیں رہا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کا کہنا ہے کہ دو مزید سی ون تھرٹی طیارے امدادی اشیا اور ٹیم کے ساتھ نیپال پہنچ گئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ امدادی ایشا میں 600 خیمے، سات نیپالی ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم بھی شامل ہے جو پاکستان میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔

نیپال کی 80 سالہ تاریخ میں یہ سب سے تباہ کن زلزلہ ہے جس میں لگ بھگ 80 لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے۔ حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

اس سے قبل بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے یونیسیف نے خبردار کیا تھا کہ چند ہفتے بعد شروع ہونے والی مون سون کی بارشوں میں زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں میں موجود 17 لاکھ بچے وبائی امراض کا شکار ہو سکتے ہیں۔