لکھوی کی رہائی پر بھارت کی اقوام متحدہ سے اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت نے اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ وہ ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے والے مبینہ مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کی رہائی کے معاملے میں اپنا کردار ادا کرے۔

بھارت نے پاکستانی عدالت کی جانب سے ذکی الرحمٰن لکھوی کو ضمانت پر بری کرنے کو اقوام متحدہ کی روایات کے مخالف قرار دیا ہے اور اقوام متحدہ کو ایک خط میں کہا ہے وہ پاکستان کے ساتھ اس معاملے کو اٹھائے۔

یاد رہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے والے مرکزی ملزم ذکی الرحمٰن لکھوی کو ایک شخص کے اِغوا کے مقدمے میں بری کر دیا تھا۔

اس سے قبل 10 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ نے بھی ذکی الرحمٰن کی حراست کے احکامات کو رد کر دیا تھا۔

ذکی الرحمٰن لکھوی کی اِغوا کے مقدمے میں بریت

ذکی الرحمٰن لکھوی کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا

واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار برجیش اپادھیائے کے مطابق اقوام متحدہ میں بھارت کے مسقل مندوب اشوک مکھرجی نے اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق کمیٹی ’سینگشن کمیٹی‘ کے سربراہ جِم میلکے کو ایک خط میں لکھا ہے کہ پاکستانی عدالت کی جانب سے ذکی الرحمٰن لکھوی کی رہائی اقوام متحدہ کی قرار نمبر 1267 کی خلاف ورزی ہے۔ اس قرارداد کے تحت مختلف افراد اور تنظیموں پر اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے تحت القاعدہ اور لشکر جھنگوی سمیت دہشت گردی میں ملوث کئی افراد اور تنظیموں پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

نیو یارک میں بھارتی مشن کے ایک اعلی اہلكار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ اس خط پر بحت کمیٹی کی آئندہ اجلاس میں ہو سکتی ہے.

خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ذکی الرحمٰن لکھوی کی ضمانت کے لیے جو رقم مہیا کروائی گئی ہے وہ بھی اقوامِ متحدہ کے قانون کے خلاف ہے کیونکہ اس کے مطابق جن لوگوں کے نام دہشت گردی سے منسلک فہرست میں شامل کر لیے جاتے ہیں ان کے مالی اثاثے ضبط کر لیے جاتے ہیں یا ان کے استعمال پر پابندی لگ جاتی ہے.

ذکی الرحمٰن لکھوی کو دسمبر 2008 میں اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا.

اقوامِ متحدہ کی ویب سائٹ کے مطابق لکھوی لشکر طیبہ کے فوجی کمانڈر ہیں اور وہ چیچنیا، بوسنيا، عراق اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق سنہ 2003 میں لکھوی نے لشکر طیبہ کے ارکان کو گھنی آبادی والے علاقوں میں حملے کرنے کا حکم دیا تھا۔ سنہ2004 میں انہوں نے عراق میں امریکی فوج پر حملہ کرنے کے لیے بھی لوگ بھیجے۔ اس کے علاوہ ویب سائٹ کے مطابق ذکی الرحمٰن لکھوی نے افغانستان میں بھی ٹریننگ کیمپ چلائے ہیں اور خود کش حملہ آوروں کو تربیت فراہم کی۔

یاد رہے کہ 10 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ نے ذکی ارحمٰن کی حراست کے احکامات کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقدمے میں پیش کی جانے والی خفیہ معلومات قابل بھروسہ نہیں ہیں، اس لیے ذکی الرحمٰن کو رہا کیا جائے۔

ذکی الرحمان لکھوی کی رہائی کے فیصلے پر بھارت کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی۔ جس کے جواب میں پاکستان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی ذمہ داری بھارت پر آتی ہے۔

رہائی کے فیصلے پر پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اختر کا کہنا تھا کہ ’بھارت کی جانب سے تعاون میں بلاوجہ تاخیر کی وجہ سے یہ مقدمہ پیچیدہ اور کمزور ہو گیا تھا۔‘

بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے سفیر عبدالباسط کو طلب کر کے باقاعدہ ذکی الرحمٰن لکھوی کی نظربندی ختم کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ انھیں امن و امان کے خدشے کے پیش نظر حراست میں رکھا گیا تھا۔

ممبئی حملوں کی سازش تیار کرنے کے مقدمے میں گرفتار دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ نومبر سنہ 2008 کے ممبئی حملوں میں ذکی الرحمٰن لکھوی کے مبینہ کردار کے ٹھوس ثبوت ہیں اور پاکستانی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انھیں جیل میں ہی رکھے۔

خیال رہے کہ ممبئی حملوں میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں