بہن بھائی کی تصویر نیپال کی نہیں، ویتنام کی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ NA SON NGUYEN
Image caption اس تصویر کو ‘دو برمی یتیم‘ اور ‘شام میں خانہ جنگی کے متاثرین‘ کے عنوان سے بھی شیئر ہوتے دیکھا گیا

نیپال میں گذشتہ ہفتے آنے والے زلزلے کے بعد یہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ شیئر کی جانے والی تصویروں میں سے ہے۔

دو بچوں کی گلے لگائے ہوئے اس تصویر میں یوں دکھائی دیتا ہے جیسے چھوٹی بچی اپنے بھائی کے ساتھ لگی دنیا سے پناہ حاصل کر رہی ہے اور لڑکے کی آنکھوں میں خوف ہے۔

یہ بلاشبہ ایک دل دہلا دینے والی ایک تصویر ہے۔

ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں یہ تصویر ٹوئٹر اور فیس بک پر اس عنوان کے ساتھ بہت زیادہ شیئر کی گئی: ’نیپال میں دو سالہ بہن کی چار سالہ بھائی حفاظت کرتے ہوئے۔‘

ان دونوں بہن بھائیوں کی زلزلہ زدگان میں تلاش کی کوششیں بھی کی گئی اور ان کے لیے امداد کا بھی کہا گیا۔

لیکن دراصل یہ تصویر تقریباً ایک دہائی پہلے ویتنام کے شمالی علاقے میں لی گئی تھی۔

یہ تصویر بنانے والے ویتنامی فوٹوگرافر نا سون نگوین نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے یہ تصویر اکتوبر 2007 میں صوبہ گیانگ کے ایک دور دراز کے گاؤں کین ٹے میں بنائی تھی۔‘

’میں اس گاؤں سے گزر رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ دو ہمونگ بچے اس وقت اپنے گھر کے سامنے کھیل رہے تھے اور ان کے والدین گھر سے دور کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔‘

’چھوٹی بچی جو شاید دو سال کی تھی، ایک اجنبی کی موجودگی سے رونے لگی اور بچے کا بھی کچھ ایسا حال تھا، جو شاید تین سال کا تھا، اس نے اپنی بہن کو دلاسہ دینے کے لیے گلے لگا لیا۔‘

’یہ لمحہ بہت پیارا تھا چنانچہ میں نے جلدی سے تصویر بنا لی۔‘

نا سون نے یہ تصویر اپنے ذاتی بلاگ پر پوسٹ کی اور انھیں حیرت ہوئی کہ تین سال بعد یہ تصویر ویتنام میں فیس بک پر ’لاوارث یتیم‘ کے عنوان سے شیئر کی جارہی تھی۔

انھوں نے کہا: ’کچھ لوگوں نے ان کے بارے میں فرضی کہانیاں بھی بنا لیں۔ مثلاً یہ کہ ’ان کی ماں مر گئی اور باپ نے انھیں چھوڑ دیا۔‘

بات یہیں تک محدود نہ رہی۔ انھوں نے اس تصویر کو ‘دو برمی یتیم‘ اور ’شام میں خانہ جنگی کے متاثرین‘ کے عنوان سے بھی شیئر ہوتے دیکھا۔

نا سون کہتے ہیں کہ انھوں نے اس حوالے سے وضاحت کرنے اور کاپی رائٹس حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم انھیں خاص کامیابی نہ حاصل ہو سکی۔

وہ کہتے ہیں: ’یہ شاید میری سب سے زیادہ شیئر کی جانے والی تصویر ہے تاہم بدقسمتی سے اسے غلط سیاق و سباق کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں