ایران نے آبنائے ہرمز میں پکڑے جانے والا مال بردار جہاز چھوڑ دیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایران کی پیٹرولنگ کشتیوں نے 28 اپریل کو جزائر مارشل جانے والے اس مال بردار بحری جہاز کو، جس میں عملے کے 24 ارکان سوار تھے، راستے میں روک لیا تھا

ایران کے میڈیا کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں گذشتہ ہفتے پکڑے جانے والا ’میرسک ٹائگرس‘ نامی مال بردار بحری جہاز چھوڑ دیا ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی نے پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ’میرسک ٹائگرس‘ نامی مال بردار بحری جہاز کو چھوڑ دیا گیا ہے۔

تاہم اس جہاز کے آپریٹر ریکمرز شپمینٹ کا کہنا ہے کہ اسے ابھی تک ’جہاز چھوڑنے کا سرکاری حکم نامہ‘ نہیں ملا۔

خیال رہے کہ ایران کی پیٹرولنگ کشتیوں نے 28 اپریل کو جزائر مارشل جانے والے اس مال بردار بحری جہاز کو، جس میں عملے کے 24 ارکان سوار تھے، راستے میں روک لیا تھا۔

ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس مال بردار بحری جہاز کو ایک لمبے تنازعے کی وجہ سے قبضے میں لیا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈنمارک کی کمپنی ’میرسک ٹائگرس‘ کے اس مال بردار بحری جہاز کو ایک ایرانی عدالت نے ایک پرائیویٹ کمپنی کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ تنازع حل کر لیا گیا ہے، تاہم ایک سرکاری ایرانی اہل کار کے مطابق ’اس بات کا امکان ہے‘ کہ یہ مسئلہ ایک دو روز میں حل کر لیا جائے گا۔

ایران کی جانب سے دنیا کے بڑے مال بردار جہازوں میں سے ایک کو پکڑنے جانے کے بعد بین اقوامی واقعہ رونما ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔

اس واقعے کے بعد امریکہ نے یو ایس ایس فیراگٹ نامی جہاز کو صورتِ حال کی نگرانی کرنے کے لیے روانہ کر دیا تھا۔

میرسک ٹائگرس کمپنی کا کہنا ہے کہ جب ان کے مال بردار بحری جہاز کو پکڑا گیا تو وہ اس وقت بین الاقوامی پانیوں میں تھا تاہم ایران کا اصرار ہے کہ وہ ایرانی حدود میں تھا۔

اسی بارے میں